معذوروں کے مسیحا جاوید عابدی نے اپنا آخری سفر طے کیا  

معذوروں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والے جاوید عابدی کی سینکڑوں سوگواروں کے درمیان تدفین عمل میں آئی جس میں معذوروں کی لڑائی لڑنے والے بڑی تعداد میں موجود تھے۔

By قومی آوازبیورو

معذوروں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والے مشہور سماجی کارکن جاوید عابدی کی تدفین آج گڑگاؤں کے سیکٹر 56کے قبرستان میں ہوئی ۔ سوگواروں کی خاصی تعداد گڑگاؤں پہنچی ۔ جو سینکڑوں افراد گڑگاؤں پہنچے ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو معذوروں کے حقوق کی لڑائی سے وابسطہ ہیں ۔ کچھ شرکاء کو اس بات کا احساس ضرور ہوا کہ اس موقع پر انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں سے جڑے افراد کی تعداد بہت کم تھی اور سیاسی شخصیات تو نظر ہی نہیں آئے۔ واضح رہے جاوید عابدی ہندوستان میں معذور افراد کی لڑائی میں ایک ادارہ کی حیثیت رکھتے تھے۔

جاوید عابدی کا مختصر علالت کے بعد کل انتقال ہو گیا تھا، وہ 53 برس کے تھے ۔ جاوید عابدی کے سینہ میں انفیکشن تھا اور پسماندگان میں ان کی والدہ، چھوٹا بھائی اور چھوٹی بہن ہیں۔

جاوید عابدی نے ہندوستان میں سب سے پہلے معذور افراد کے لئے مہم چلا نی شروع کی تھی ۔ ان کا ماننا تھا کہ معذور افراد کے لئے اگر کوئی اسکیم بنائی جائے تو یہ لازمی ہے کہ اس کے لئے معذور افراد سے بات کی جائے۔ ان کی کوششوں کے نتیجہ میں دسمبر 2016 میں معذور افراد سے وابستہ قوانین میں کلیدی تبدیلیاں عمل میں آئیں۔ اس کے بعد معذور ہونے کی تعریف ہی بدل گئی اور معذوروں کے لئے عوامی مقامات پر آنے جانے کی سہولیات میں بھی تبدیلیاں کی گئیں۔

اتر پردیش کے علی گڑھ میں پیدا ہونے والے جاوید عابدی کو جنم سے ہی ’سپائینا بائفڈا‘ نامی بیماری تھی۔ بچپن میں ان کا علاج نہ ہو پانے کی وجہ سے ان کے ’نروس سسٹم ‘ کو کافی نقصان پہنچا۔ اس کے بعد ان کا خاندان امریکہ میں شفٹ ہو گیا۔ اپنی پریشانیوں کے باوجود جاوید نے رائٹ اسٹیٹ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی اور ہندوستان واپس آ گئے۔ 1993 میں انہوں نے راجیو گاندھی فاؤنڈیشن میں کام کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی تنظیم کا قیام کیا۔ ان کا مقصد پارلیمنٹ میں معذور افراد کے لئے بل لانا تھا۔

جاوید عابدی کی عرضی پر ہی سپریم کورٹ نے پولنگ بوتھوں پر معذوروں کے لئے ماحول سازگار بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔ ان کی مہم کے نتیجہ میں لال قلعہ، قطب مینار اور ایسی دوسری تاریخی عمارتوں پروہیل چیئر ریمپ بنائے گئے۔ علاوہ ازیں جاوید سائن لینگویج (اشاروں کی زبان) کو آفیشل درجہ دلانے، معذوروں سے وابستہ ڈیوائسوں کو جی ایس ٹی سے باہر رکھنے، تعلیم، روزگار اور دیگر کاموں میں مصروف رہے۔ عابدی کی تنظیم کی کاوشوں کے بعد سول سروسز کے امتحانات میں معذوروں کی حصہ داری یقینی بنائی گئی۔

دہلی اردو اکیڈمی کے سابق وائس چیئرمین پروفیسر اشتیاق عابدی مرحوم کے بیٹے جاوید عابدی دونوں ٹانگوں سے معذور ہونے کے باوجود تمام عمر معذوروں کے حقوق کے لیے لڑتے رہے ۔