امریکی پابندیوں کے باوجود ایران تیل بیچ رہا ہے، ایرانی نائب صدر

ایران اپنے خلاف امریکا کی طرف سے عائد کردہ تیل اور تیل کی مصنوعات کی برآمد پر پابندیوں کے باوجود اپنی تیل کی پیداوار برآمد کر رہا ہے۔ نائب صدر کے بقول اس کے لیے تہران ’دیگر ذرائع‘ استعمال کر رہا ہے۔

امریکی پابندیوں کے باوجود ایران تیل بیچ رہا ہے، ایرانی نائب صدر
امریکی پابندیوں کے باوجود ایران تیل بیچ رہا ہے، ایرانی نائب صدر

ڈی. ڈبلیو

متحدہ عرب امارات میں دبئی سے پیر دو دسمبر کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے آج اپنی نشریات میں ملکی نائب صدر اسحاق جہانگیری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تہران اپنے خلاف امریکا کی طرف سےعائد کردہ پابندیوں کے باوجود اپنی تیل کی پیداوار فروخت کر رہا ہے۔

سرکاری ٹیلی وژن نے بتایا کہ نائب صدر جہانگیری نے یہ بھی کہا کہ تہران کے خلاف امریکا میں خاص طور پر موجودہ ٹرمپ انتطامیہ کی 'زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی بھی ناکام ہو گئی ہے۔

اسحاق جہانگیری نے کہا، ’’امریکا کے دباؤ، اور ان پابندیوں کے باوجود جو اس نے تہران کے خلاف عائد کر رکھی ہیں، ہم آج بھی دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے اپنا تیل فروخت کر رہے ہیں۔ اگرچہ ایران کے کئی دوست ممالک بھی امریکی کی طرف سے اپنے خلاف ممکنہ اقدامات کے ڈر سے ایرانی خام تیل کی خریداری بند کر چکے ہیں، تاہم پھر بھی ہم اپنا تیل تو فروخت کر رہے ہیں۔‘‘

ایران اور امریکا کے مابین تعلقات ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد سے مسلسل کشیدہ ہی رہے ہیں اور واشنگٹن اور تہران کے مابین کوئی سفارتی روابط بھی نہیں ہیں۔

ایرانی حکومت اور امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کے مابین تعلقات ایک مرتبہ پھر اس وقت بہت بحرانی صورت اختیار کر گئے تھے، جب صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس امریکا کے ایران کے ساتھ اس جوہری معاہدے سے یکطرفہ اخراج کا اعلان کر دیا تھا، جو ٹرمپ کے پیش رو امریکی صدر باراک اوباما کے دور اقتدار میں 2015ء میں طے پایا تھا۔

اپنے اس یکطرفہ اقدام کے بعد سے واشنگٹن حکومت ایران کے خلاف اس کی تیل کی ہر قسم کی برامدآت کو رکوانے کے لیے بہت سخت پابندیاں بحال کر چکی ہے۔ اس کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس کا ہدف یہ ہے کہ ایران کو مذاکرات پر مجبور کر کے اس کے ساتھ ایک نئی اور موجودہ سے بہتر جوہری ڈیل طے کی جائے۔

لیکن تہران حکومت، جو اپنے خلاف امریکا کی عائد کردہ نئی اور بہت سخت پابندیوں کو غیر منصفافہ قرار دے کر قطعی طور پر مسترد کرتی ہے، کا کہنا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعے میں کسی بھی طرح کے نئے مذاکرات پر اس وقت تک آمادہ نہیں ہو گی، جب تک کہ ٹرمپ انتظامیہ تہران کے خلاف اپنی عائد کردہ تمام پابندیاں اٹھا نہیں لیتی۔

اس پس منظر میں ایرانی نائب صدر اسحاق جہانگیری نے کہا، ''امریکا کی خواہش تھی کہ ایرانی تیل کی برآمدات کو بالکل صفر فیصد تک کم کرا دیا جائے، لیکن وہ (امریکا) ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘‘