سمندر میں روس-کراچی روٹ پر ہندوستانی جہاز کو ڈرون حملہ کا سامنا، بمشکل بچی 23 ہندوستانی ملاحوں کی جان

ایف ایس یو آئی جنرل سکریٹری منوج یادو نے اس واقعہ کے تعلق سے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ جہاز پر ہوئے حملہ کے دوران دوسرا ڈرون بھی دیکھا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>مال بردار جہاز میں آگ کی علامتی تصویر، سوشل میڈیا</p></div>
i

روس کے نووروسیسک سے کراچی جا رہے ہندوستانی عملہ والے مال بردار جہاز ’ایم وی باریون‘ (آئی ایم او 9151412) پر ڈرون حملہ کی خبر ہے۔ 2 ستمبر 2026 کو ہوئے اس حملے میں ڈرون جہاز کے اکوموڈیشن ایریا سے ٹکرا گیا، جس کے بعد آگ لگ گئی۔ اچھی بات یہ رہی کہ جہاز پر سوار عملہ نے فوری طور پر آگ پر قابو پا لیا اور جہاز اپنے انجن کے سہارے آگے بڑھتا رہا۔

ایف ایس یو آئی جنرل سکریٹری منوج یادو نے اس واقعہ کے تعلق سے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ حملہ کے دوران دوسرا ڈرون بھی دیکھا گیا۔ جہاز پر 23 ہندوستانی ملاح سوار تھے اور سبھی کے محفوظ ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ منوج یادو نے مزید کہا کہ اس واقعہ کو لے کر ہندوستانی ملاحوں کی حفاظت پر سنگین سوال اٹھ رہا ہے۔ ہندوستانی ملاح بین الاقوامی تجارت کو ہموار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور کسی بھی تنازعہ کا حصہ نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود ہندوستانی عملہ والے تجارتی جہازوں کو مسلسل سیکورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔


اس سے قبل آبنائے ہرمز میں 21 ہندوستانی ملاحوں والے ایک کنٹینر جہاز پر ایرانی کشتیوں نے فائرنگ کی تھی۔ ہندوستانی ملاحوں کی تنظیم ’ایف ایس یو آئی‘ نے حال ہی میں اس واقعہ کی ویڈیو جاری کی۔ ویڈیو میں ایرانی ریوولوشنری گارڈز (آئی آر جی سی) سے وابستہ کشتیوں کو جہاز کے قریب دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاز پر فائرنگ کے بعد شیشے ٹوٹ گئے اور سامان بکھر گیا۔ اس حملہ کے دوران جہاز پر موجود عملہ کے اراکین اپنی جان بچانے کے لیے اندر چھپ گئے۔ اچھی بات یہ رہی کہ جہاز پر موجود سبھی 21 ہندوستانی ملاح محفوظ رہے۔

قابل ذکر ہے کہ خلیجی خطے میں عدم تحفظ کے باعث ہندوستان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ہندوستانی ملاحوں کی نئی تعیناتی پر روک لگا رکھی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت لیا گیا تھا، جب ہرمز کے علاقوں میں ہوئے حملوں میں کچھ ہندوستانی ملاحوں کی موت ہوئی تھی۔ رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے اب تک اس خطے میں ہوئے حملوں میں کم از کم 14 ہندوستانی ملاحوں کی جان جا چکی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔