نیپال انتخاب کے پیش نظر 72 گھنٹے کے لیے بند رہے گی ہند-نیپال سرحد
ڈی آئی جی وشنو پرساد بھٹ نے کہا کہ ’’انتخاب سے قبل ہندوستان اور نیپال کی سرحدوں کو بند کرنے کی روایت پرانی ہے۔ سرحد پر حفاظتی انتظامات کو درست رکھنے اور دراندازی کو روکنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔‘‘

ہندوستان کے پڑوسی ملک نیپال میں 5 مارچ کو پارلیمانی انتخاب ہونے والا ہے۔ انتخاب کے پیش نظر ہندوستان اور نیپال کی سرحد کو 72 گھنٹوں کے لیے بند کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ انتخابی عمل کے دوران کوئی خلل یا رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ جمعہ (7 فروری) کو مسلح سرحدی فورس (ایس ایس بی) اور نیپال آرمڈ پولیس فورس (اے پی ایف) کے درمیان ڈی آئی جی سطح کی ایک میٹنگ ہوئی تھی۔ میٹنگ میں دونوں فریق نے نیپال میں انتخاب کے دوران خلل ڈالنے والے دراندازوں کو روکنے کے لیے سرحد پر حفاظتی نگرانی مزید سخت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اے پی ایف کے ترجمان ڈی آئی جی وشنو پرساد بھٹ نے نیوز ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کو بتایا کہ نیپال نے ہندوستانی فریق سے انتخاب سے 2 روز قبل بارڈر پوسٹ کو بند کرنے کی درخواست کی تھی۔ ہندوستانی فریق نے ہماری تجویز سے اتفاق کیا، معاہدے کے مطابق بشمول اںتخاب کے دن کے 3 دن یعنی 72 گھنٹے تک ہندوستان اور نیپال کی بارڈر پوسٹ بند رہیں گی۔ ڈی آئی جی بھٹ نے یہ بھی کہا کہ انتخاب سے قبل ہندوستان اور نیپال کی سرحدوں کو بند کرنے کی روایت پرانی ہے۔ انتخاب کے دوران پولنگ بوتھ پر بڑی تعداد میں سیکورٹی ایجنسیاں تعینات رہتی ہیں، ایسے میں سرحد پر حفاظتی انتظامات کو درست رکھنے اور دراندازی کو روکنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔
ڈی آئی جی وشنو پرساد بھٹ نے مزید کہا کہ دونوں فریق کے درمیان ہونے والی اس میٹنگ میں سرحدی سیکورٹی، سرحد پار سے ہونے والے جرائم پر قابو پانے اور تیسرے ملک کے شہریوں کی غیر قانونی آمد و رفت کو روکنے، ہیومن ٹریفکنگ، جعلی کرنسی، منشیات کی اسمگلنگ اور تجارت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ساتھ ہی ہندوستان کی جانب سے نیپال کی کھلی سرحد کا فائدہ اٹھا کر پاکستانی دہشت گردوں کی دراندازی کے خدشے کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اے پی ایف کے مطابق اس میٹنگ میں بارڈر گیٹ کی سیکورٹی، دونوں طرف کے لوگوں کی آمد و رفت کو آسان بنانے اور ایمرجنسی میں بچاؤ وغیرہ پر بھی بات چیت کی گئی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے نیپال اور ہندوستان کے درمیان کھلی سرحد کا فائدہ اٹھا کر کشمیری اور پاکستانی دہشت گردوں کی دراندازی کے خدشے پر بار بار تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اے پی ایف نے بتایا کہ میٹنگ میں سرحدی ستونوں کی حفاظت، مسافروں کی آمد و رفت کو آسان بنانے، مشترکہ گشت، آفات سے بچاؤ کی مشقوں اور مشترکہ کھیلوں کی سرگرمیوں کے انعقاد پر بھی غور و خوض کیا گیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔