لال قلعہ کا رکھ رکھاؤ: انڈین ہسٹری کانگریس کا اظہار تشویش

انڈین ہسٹری کانگریس نے صرف لال قلعہ ہی نہیں بلکہ ’تاج محل‘ اور دیگر تاریخی قومی یادگار مقامات کو صنعتی گروپوں کو سونپے جانے پر تنقید کی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: انڈین ہسٹری کانگریس نے دارالحکومت کے تاریخی لال قلعہ کے رکھ رکھاؤ کی ذمہ داری ڈالمیا گروپ کو دیئے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس کے لئے ہونے والے معاہدہ کو فی الحال معطل رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انڈین ہسٹری کانگریس کی جانب سے جاری ایک ریلیز میں صرف لال قلعہ ہی نہیں بلکہ ’تاج محل‘ اور دیگر تاریخی قومی یادگار مقامات کو صنعتی گروپوں کو سونپے جانے پر تنقید کی ہے۔

ریلیز میں کہا گیا ہے کہ لال قلعہ کو ڈالمیا صنعتی گروپ کو تفویض کیا گیا ہے لیکن تشویش کی بات ہے کہ اس کمپنی کو تاریخی مقامات کے رکھ رکھاؤ اور تحفظ کرنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے تو اس بات کا خدشہ ہے کہ وہ سیاحوں کو زیادہ سے زیادہ اپنی طرف متوجہ کرنے کے نام پر لال قلعہ کی تاریخی اور اس سے جڑے حقائق کو توڑ مروڑ کر نہ پیش کرے اور اس کی غلط تشریح نہ کرنا شروع کر دے۔ اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ لال قلعہ کے سیکولر خدوخال کو بھی چوٹ نہ پہنچائی جائے۔

انڈین ہسٹری کانگریس یہ مطالبہ کرتی ہے کہ تاریخی ثقافتی مقامات کے انتظام کا جائزہ آرکا لوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے مرکزی ایڈوائزری بورڈ یا ماہرین کے کسی ادارے کو دی جائے تاکہ وہ ان مقامات کی نگرانی اور دیکھ بھال کر سکے اور اس وقت تک کے لئے ڈالمیا سے ہوئے معاہدہ کو معطل رکھا جائے۔

تنظیم نے اس پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ممبئی کے آغا خاں ٹرسٹ کو بھی ہمايو ں کے مقبرہ کے کیمپس میں واقع مغل دور کے مقامات کے رکھ رکھاؤ اور اس کی فرنشننگ کے لئے آغا خان ٹرسٹ کو ذمہ داری دی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔