ہندوستان اور پاکستان نے ایک دوسرے کو سونپی ’جوہری ٹھکانوں‘ کی فہرست
وزارت خارجہ نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس طرح سے جوہری تنصیبات کی فہرست 35ویں بار شیئر کی گئی ہے۔ پہلی بار فہرست جنوری 1991 کو شیئر کی گئی تھی۔

ہندوستان اور پاکستان نے جمعرات (یکم جنوری) کو دو طرفہ معاہدہ کے تحت اپنی جوہری تنصیبات کی فہرست ایک دوسرے کو سونپی۔ یہ فہرست اس معاہدہ کے تحت سونپی گئی ہے جو دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے جوہری مقامات پر حملہ کرنے سے روکتی ہے۔ نئے سال کی شروعات میں کیا جانے والا یہ عمل گزشتہ 3 دہائیوں سے جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال مئی میں پہلگام دہشت گردانہ حملہ اور آپریشن سندور کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی سرد پڑ چکے ہیں۔ کشیدہ تعلقات کے درمیان ہی دونوں ممالک کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرست کا تبادلہ کیا گیا ہے۔
جمعرات کو وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’’ہندوستان اور پاکستان نے آج نئی دہلی اور اسلام آباد میں ایک ساتھ سفارتی ذرائع کے ذریعہ ان جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرستوں کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جوہری تنصیبات اور سہولیات پر حملے کی ممانعت کے معاہدے کے تحت آتی ہے۔‘‘ اس معاہدہ پر 31 دسمبر 1988 کو دستخط ہوا تھا اور پہلی بار جنوری 1991 کو نافذ کیا گیا تھا۔ اب 35ویں بار دونوں ممالک کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرست شیئر کی گئی ہے۔
وزارت خارجہ نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس طرح سے جوہری تنصیبات کی فہرست 35ویں بار شیئر کی گئی ہے۔ پہلی بار فہرست جنوری 1991 کو شیئر کی گئی تھی۔ فہرست کا تبادلہ جوہری تنصیبات اور سہولیات پر حملوں کی ممانعت کے معاہدے کی دفعات کے تحت ہوا۔ ساتھ ہی دونوں ممالک نے 2008 کے دو طرفہ معاہدہ کے تحت نئی دہلی اور اسلام آباد میں ایک ساتھ سفارتی ذرائع کے ذریعہ ایک دوسرے کی تحویل میں موجود سویلین قیدیوں اور ماہی گیروں کی فہرستوں کا بھی تبادلہ کیا۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ ہندوستان نے اپنی تحویل میں موجود 391 سویلین قیدیوں اور 33 ماہی گیروں کی تفصیلات والی فہرست شیئر کی ہی، جو پاکستانی ہیں یا جن کے پاکستانی ہونے کا یقین ہے۔ اسی طرح پاکستان کی تحویل میں موجود 58 سویلین قیدیوں اور 199 ماہی گیروں کی تفصیلات پر مبنی فہرست شیئر کی ہے، جو ہندوستانی ہیں یا جن کے ہندوستانی ہونے کا یقین ہے۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی حکومت نے پاکستان کی تحویل سے سویلین قیدیوں، ماہی گیروں اور ان کی کشتیوں اور لاپتہ ہندوستانی دفاعی اہلکاروں کو جلد رہا کرنے اور واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے 167 ہندوستانی ماہی گیروں اور سویلین قیدیوں کی رہائی اور واپس بھیجنے میں بھی تیزی لانے کی اپیل کی گئی ہے، جنہوں نے اپنی سزا مکمل کر لی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔