پشتون سیاست میں بنوں کی اہمیت

پاکستان میں پشتون قوم پرست سیاست کا محور ولی باغ اور بلوچستان کا گلستان علاقہ رہے ہیں۔ لیکن اتوار کو پی ٹی ایم کے جلسے نے جنوبی پختونخوا میں بنوں کی اہمیت بھی اجاگر کی ہے۔

پشتون سیاست میں بنوں کی اہمیت
پشتون سیاست میں بنوں کی اہمیت

ڈی. ڈبلیو

بنوں شہر کو شمالی وزیرستان کا گیٹ وے کہا جاتا ہے۔ شمالی وزیرستان سے متصل ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کے رسم و رواج اور رہن سہن مشترک ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ساتھ ساتھ بنوں جیسے علاقے خاصے متاثر ہوئے۔ اس لیے دیگر پشتون علاقوں کی نسبت یہاں کے لوگوں کی محرومیاں اور مشکلات زیادہ ہیں۔

اس علاقے میں پشتون زبان کا لہجہ بلوچستان میں آباد پشتونوں اور افغانستان کے قندھار علاقے جیسا ہے جبکہ سیاسی سوچ خان عبدالغفار خان کے فلسفہ عدم تشدد سے متاثر ہے۔ شاید اسی لیے جب اس علاقے کے جنگ زدہ لوگوں کی آواز اٹھانے کے لیے منظور پشتین سامنے آئے تو نوجوانوں میں جلد مقبول ہو گئے۔

اتوار کو بنوں میں پی ٹی ایم کے جلسے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ تنظیم نے اس طرح کا اجتماع کوئی سات ماہ کے وقفے کے بعد کیا۔ منظور پشتین نے جلسے سے اپنے خطاب میں کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا یہ خیال تھا کہ اب پی ٹی ایم بڑا جلسہ کرنے کے قابل نہیں رہی لیکن اس جلسے نے انہیں غلط ثابت کر دکھايا۔

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ پی ٹی ایم کا وقت ختم ہو چکا ہے لیکن اس جلسے نے ان کے دعوے کو غلط ثابت کیا۔ علی وزیر نے جلسے سے اپنے خطاب میں کہا کہ پارلیمنٹ کے نمائندے اسمبلی میں عوامی جذبات کی ترجمانی نہیں کرتے۔

پی ٹی ایم کی رہنما ثناء اعجاز نے کہا، ''قبائلی علاقوں میں ملٹری آپریشن ہوئے اور کہا گیا کہ یہ علاقے دہشت گردوں سے پاک ہو گئے ہیں لیکن کچھ عرصے سے ان علاقے کے لوگ نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں۔ ہم اس جلسے کے ذریعے حکومت کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اب پشتون خاموش نہیں بیٹھیں گے۔‘‘