خبریں

ہندو دیومالائی کہانیوں کو سائنس ثابت کرنے کی کوشش

بھارت میں ہندو دیو مالائی کہانیوں کو سائنس ثابت کرنے کی کوشش میں بعض بھارتی سائنس دانوں کے ’غیر منطقی اور غیر سائنسی‘ دلائل کی وجہ سے انڈین سائنس کانگریس کا انتہائی اہم اجلاس تنازعہ کا شکار ہوگیا

سوشل میڈیا 

ڈی. ڈبلیو

ملک میں سائنسی برادری نے اساطیری کہانیوں کو سائنس قرار دینے کی ان کوششوں پر سخت نکتہ چینی کی ہے اور مختلف یونیورسٹیوں میں سائنس دانوں، اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ نے مظاہرہ کرتے ہوئے اپیل کی کہ دیومالائی کہانیوں کو سائنس قرار دینے سے گریز کیا جائے تاکہ بھارت کی جگ ہنسائی نہ ہو۔
انڈین سائنس کانگریس کے اجلاس کو بھارت میں سائنس کی نئی نئی جہتوں کے فروغ و اشاعت کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس اجلاس کا افتتاح عام طورپر وزیر اعظم کرتے ہیں۔ بھارتی پنجاب کے علاقے جالندھر میں منعقدہ پانچ روزہ 106ویں کانگریس کا افتتاح تین جنوری کو وزیراعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔ اس میں کئی نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں سمیت دنیا بھر سے تقریباً تیس ہزار مندوبین کے علاوہ بھارت کے متعدد وفاقی وزراء بھی شریک ہوئے۔ تاہم بعض بھارتی سائنس دانوں کی طرف سے ہندو دیو مالائی کہانیوں کو سائنس سے بالاتر ثابت کرنے کی کوشش کی وجہ سے یہ اجلاس تنازع کا شکار رہا۔

خیال رہے کہ ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے 2014میں اقتدار میں آنے کے بعدہندو دیومالائی کہانیوں کو سائنسی رنگ دینے کے لیے منظم کوشش جاری ہے۔ 2014میں خود وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ جدید طب آج جہاں ہے بھارت ہزاروں برس پہلے وہاں پہنچ چکا تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے پلاسٹک سرجری کی مثال دی تھی اور ہندوؤں کے بھگوان گنیش کے سر پر ہاتھی کی موجودگی کو بہ طور ثبوت پیش کیا تھا۔
بی جے پی کے سینیئر رہنما اور اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ رمیش پوکھریال نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت نیوکلیائی طاقت سے صدیوں پہلے واقف تھا حتیٰ کہ دوسری صدی قبل مسیح میں اس نے نیوکلیائی تجربہ بھی کیا تھا۔ بی جے پی کے ایک اور رہنما اور تریپورا کے وزیر اعلی بپلب دیب مہابھارت کے دور میں انٹرنیٹ کی موجودگی کا دعوی کرچکے ہیں جب کہ تعلیم کے جونیئر وفاقی وزیر ستیہ پال سنگھ نے ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو غلط بتایا تھا۔ راجستھا ن کے سابق وزیر تعلیم واسودیو دیونانی نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک بھارتی ماہر فلکیات نے نیوٹن سے ایک ہزار سال قبل کشش ثقل کا قانون دریافت کیا تھا۔ ان کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ گائے واحد جانور ہے، جو آکسیجن لیتی اور خارج کرتی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر ہرش وردھن نے گزشتہ برس دعویٰ تھا کہ اسٹیفن ہاکنگ نے ویدو میں درج ایک تھیوری کو آئن سٹائن کے نظر یہ اضافیت سے بہتر قرار دیا تھا۔حالانکہ ماہرین نے بعد میں وردھن کے اس دعوے کو یکسر بے بنیاد قرار دیا تھا۔

سائنس دانوں کی ملک گیر تنظیم بریک تھرو سائنس سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری پروفیسر سومترو بنرجی کا انڈین سائنس کانگریس کے حالیہ تنازعہ کے حوالے سے کہنا تھا، ’’ہمیں جھوٹے دعووں سے بچنا چاہیے، سائنس میں ہمیشہ نئی نئی چیزیں سامنے آتی رہتی ہیں لیکن تمام دعووں کے لیے ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ دریں اثناء حکومت کے چیف سائنٹیفک ایڈوائزر کے وجے راگھون نے اس معاملے پر صفائی دیتے ہوئے کہا، ’’سائنس کانگریس میں شامل ہونے والے مقررین کیا بولتے ہیں اس کی ذمہ داری حکومت پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ حکومت نہ تو سائنس کانگریس کا ایجنڈا طے کرتی ہے نہ ہی مقررین کا نام۔‘‘