بچیوں کے ساتھ درندگی سے دلبرداشتہ صنعت کار ’جلّاد‘ بننے کو تیار

معروف صنعت کار آنند مہیندر ا

کٹھوعہ اوراُناؤ عصمت دری نےملک کے ہر حساس عوام کو جھنجھوڑکر رکھ دیا ہے اور ممبئی کے معروف صنعت کار آنند مہیندرا بھی ان میں سے ایک ہیں۔ وہ زانیوں کو پھانسی دینے کے لیے جلّاد بننے کے لیے بھی تیار ہیں۔

ممبئی: معروف صنعت کار آنند مہیندر ا نے جموں و کشمیر میں کٹھوعہ اور اتر پردیش میں اناؤآبروریزی کے واقعات سے دل برداشتہ ہوکر سوشل میڈیا پر زانیوں کے لیے جلادبننے کی پیش کش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میں ملک میں کمسن لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے والے زانیوں کوپھانسی دینے کے کی غرض سے جلاد بننے کے لیے تیار ہوں۔‘‘اس طرح انہوں نے ملک بھر میں جاری ناراضگی اور احتجاج میں خودکو رضاکارانہ طورپرشامل کرلیا ہے۔

گزشتہ روز گجرات کے سورت شہر میں ایک 11سالہ لڑکی کی عصمت دری اور قتل کی خبر کے بعد صنعت کار مشتعل ہوگئے اورمہیندرا گروپ کے 62سالہ چیئرمین آنند مہیندرا نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ ’’جلاد کا پیشہ قابل قبول اور خواہش کے مطابق نہیں ہے ،لیکن نوجوان اور کمسن لڑکیوں کے زانیوں اور قاتلوں کو پھانسی پرچڑھانے کے لیے میں رضاکارانہ طورپر یہ پیشہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘

انہوں نے اپنے ٹویٹ میں اس بات کا اظہار کیاہے کہ ’’میں پُرسکون رہنے کے لیے کافی محنت کرتا ہوں ،لیکن ہمارے وطن عزیز میں جوکچھ ہورہا ہے ،ان واقعات کی وجہ سے میرا خون کھول رہا ہے۔‘‘ان کے ٹویٹ کے بعد فوٹوگرافر اتل کاسبیکر نے کہا کہ اس معاملہ میں آپ کو قطار میں لگنا ہوگا ،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی اس کے لیے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ کٹھوعہ اور اناؤ کے بعد سورت میں 11سالہ لڑکی کی آبروریزی کی خبر آنے کے بعد پولیس اس کی تردید کررہی ہے ،جس سے عوام میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول