شادی کے سوال پر راہل کا جواب... ’میری شادی تو ہو چکی‘

کانگریس صدر راہل گاندھی نے حیدر آباد میں مختلف کمپنیوں کے سی ای او کے ساتھ ایک میٹنگ کی جس میں چھوٹے و متوسط بزنس کو درپیش مسائل کے تعلق سے جانکاری حاصل کی اور اس کے حل پر تبادلہ خیال کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

کانگریس صدر راہل گاندھی دو دنوں کے حیدر آباد دورہ پر ہیں اور وہاں مختلف کمپنیوں کے سی ای او، اخبارات کے مدیران اور عام لوگوں سے بھی الگ الگ ملاقات کر رہے ہیں۔ اس دوران جب ان کی ملاقات کچھ مقامی اخبارات کے مدیروں سے ہوئی تو ان میں سے ایک نے راہل گاندھی سے وہی دلچسپ سوال کیا جو اکثر ان سے پوچھا جاتا رہا ہے۔ سوال تھا کانگریس صدر کے شادی کے منصوبہ کے متعلق۔ اس کے جواب میں راہل گاندھی نے جو کہا اس نے سب کو حیران کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ”میں پہلے سے ہی شادی شدہ ہوں۔ میری شادی تو ہو چکی ہے۔“ جب راہل گاندھی نے وہاں موجود مدیروں کو حیران دیکھا تو مسکرا کر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنی پارٹی کانگریس کے ساتھ بہت پہلے ہی شادی کر لی ہے۔ جواب سن کر مدیر حضرات بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔

مقامی اخبارات کے مدیروں و صحافیوں سے تلنگانہ کی سیاست اور عوامی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اس مرتبہ اس ریاست میں کانگریس کی ہی حکومت قائم ہوگی۔ آندھرا پردیش سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انھوں نے کہا کہ پارٹی یہاں اپنی گرفت مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدام کر رہی ہے جس کا نتیجہ بھی جلد ہی دیکھنے کو ملے گا۔ قومی سیاست پر بات کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ ”نریندر مودی 2019 میں وزیر اعظم نہیں بنیں گے اور بی جے پی 230 سیٹیں بھی حاصل نہیں کر سکے گی۔“ جب راہل گاندھی سے یہ پوچھا گیا کہ اگر کانگریس و دیگر غیر بی جے پی پارٹیوں کو اکثریت حاصل ہو گئی تو وزیر اعظم کون ہوگا، تو انھوں نے کہا کہ ”اس سلسلے میں دیگر پارٹیوں کے ساتھ رائے مشورہ چل رہا ہے اور یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔“

اپنے حیدر آباد دورہ کے دوران راہل گاندھی نے چیف ایگزیکٹیو افسران سے بھی ملاقات کی اور ریاست میں چھوٹے و متوسط بزنس کو درپیش مسائل کے تعلق سے گفت و شنید کی۔ تلنگانہ میں تاجروں کو جن مسائل کا سامنا ہے اور خصوصاً چھوٹے و درمیانی سطح کے بزنس مین جس طرح کی پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں، اس سلسلے میں میٹنگ کے دوران انتہائی اہم گفتگو ہوئی۔ راہل گاندھی نے ان کی باتوں کو بغور سنا اور ان مسائل کے حل پر بھی غور و خوض کیا۔ میٹنگ میں ماحول بہت خوشگوار رہا اور اس میں موجود مختلف کمپنیوں کے سبھی چیف ایگزیکٹیو افسران نے کھل کر نہ صرف اپنے مسائل کانگریس صدر کے سامنے رکھے بلکہ نیک مشوروں سے بھی انھیں نوازا۔