پلوامہ کے شہید: ہوائی جہاز میں ہوا تاریخی کل ہند مشاعرہ

’دعوتِ سخن‘ کے بینر تلے منعقد یہ کل ہند مشاعرہ مقبول عام ایئر بیس320ہوائی جہاز میں ہوا جس میں بہت سی فلموں کی شوٹنگ ہوئی ہے۔ شعرو ادب کے اس بزم میں کئی معروف شعراء نے شرکت کی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی : اردو اور ہندی کے شاعروں و شاعرات نے اپنی نوعیت کا بہترین خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تاریخی کل ہند مشاعرہ پلوامہ شہید فوجی جوانوں کے نام سے موسوم کیا اور ائیرو پلانٹ ایئر ہوسٹس ٹریننگ سینٹر کیمپس میں منعقد کرکے ادب وثقافت کی تاریخ رقم کردی۔یہ مشاعرہ دعوتِ سخن کے بینر تلے منعقد کیاگیا۔

ڈی سی پی دواریکاانتو ایل فونس نے اس موقع پر شاعری کو سماج کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا یہ بھی تعلیم کاحصہ ہے،بس اسے سمجھنے کی ضرورت رہتی ہے۔ایس ایس پی گواپنکج کمار سنگھ نے آئندہ بھی اسی طرح کی بزم سجانے کااعاددہ کیا اور زبان وادب کے ساتھ بھائی چارہ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔معروف ایئر بیس320ہوائی جہازجس میں بہت سی فلموں کی شوٹنگ ہوئی ہے اس میں شعرو ادب کی بزم سجائی گئی ۔جہاز کے مالک ،سینٹر کے اورنر وڈائریکٹر اےئرو پلینٹ بی سی گپتا نے ڈی سی پیدواریکاانتو ایل فونس اورگوا کے ایس پی پنکج کمار سنگھ کاخیر مقدم کیا۔ دواریکاسٹی فاؤنڈر مکیش سنہا اور دعوت سخن کے صدرمنیش مدھوکر اور پیس میکر فاؤنڈیشن کے صدر سنتوش کمار سرس ،وجئے سونیکاروغیرہ بھی بھی مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ادبی تنظیم دعوتِ سخن کاچوتھا سالانہ پروگرام نہ صرف گذشتہ پروگراموں سے مختلف رہا بلکہ ادبی دنیا کاپہلا انوکھا اور دلچسپ تجربہ رہا،جس سے شائقین زبان وادب نے بہت لطف اٹھایا۔

ہوائی جہاز کے کوکپیٹ کے ساتھ بزنس کلاس سیٹنگ ہال میں پوڈیم لگا کر صدر کے لئے خصوصی کرسی لگائی گئی ،یہ سلسلہ مراحلہ وار صبح سے رات تک چلتا رہا، ناظم بھی ان کے قریب بیٹھ کر اپنی نظامت کرتے رہے ۔ جن شعراء نے صدارت کی ان میں سیماب سطانپوری،دیوندر مانجھی،عبد الرحمن منصور، ڈی ایس کھوبرا سدھا کر وغیرہ شامل ہیں۔اسی طرح نظامت بھی بدلتی رہی ۔پیس میکر فاؤنڈیشن اور ہندی منتھن کے اشتراک سے منعقد اس سالانہ پروگرام میں جھانسی، الہٰ آباد، گورکھپور، کانپور، لکھنؤ،پٹنہ،فرید آباد غازی آباد ، ہاپوڑ، مرادآباد،ہریانہ اور ملک کے متعدد شہروں سے مشہور ومعروف102 شاعروں اور شاعرات کو سالانہ پروگرام کی زینت بڑھانے کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔اس موقع پرفلم ڈائیریکٹر وپرڈوسر منیشا بجاج بھی شامل ہوئیں،اور اپنے تلخ تجربات ہندی فلوں کے گانوں کے حوالے سے شرکاء کے ساتھ اشتراک کیے اور کہا کہ غیر مہذب لفظیات کاگانوں میں داخل کیا جانا بڑی شرم کی بات ہے۔شریک شعراء وشاعرات کو سرٹیفکٹ سے نواز کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔قارئین کے لئے پسندیدہ اشعار کانمونہ پیش ہے۔

آپ نے دیکھا نہیں دل کی رگوں کا ٹوٹنا

آپ لطف اندوز میرے شعر سے ہوتے رہے

سیماب سلطانپوری

زندگی سے جب کہاتو ہے کہاں؟

چیخ کر بولی کہ میں فٹ پاتھ پر

دیوندر مانجھی

ہونے ہیں کئی تم سے ابھی اپنے خفا اور

پہلے کی ہوا اور تھی اور اب کی ہوا اور

اے رحمن منصور

چلو اٹھو لکھیں مل کر نئی اک ویر گاتھا ہم

یہی تاریخ بتلائے شہادت ضائع ہوتی نئیں

حبیب سیفی

جوٹکرا کے مرا ہے کار سے بھوکا تھا بیچارا

وہ شاید بچ بھی سکتا تھا اگر چکّر نہیں آتا

خمار دہلوی

آگ کے پھول اُگ رہے ہیں

اب منجمد برف کی زمینوں سے

فخر الدین اشرف

شروع ہوجائے گا اس وقت سے تیرا براٹائم

مقابل جب زمانے کے ترا کردار آئے گا

نزاکت امروہوی

تم پرندوں کے لئے اور ٹھکانے ہیں مگر

میں شجر ہوں مجھے تکنی ہیں سبھی کی راہیں

ثالب چندیانوی

جو دل کی کھائیوں کو پاٹتا

میں ایسا پُل بنانا چاہتا ہوں

منیش مدھوکر

تمہارا درد تو میں جانتا ہوں

مرے بارے میں تم کو کیا پتہ

سورج ٹھاکر

اس کے علاوہ سمیر سنگھ چرورا، اشوک ورما، راشد راحت، نیلو فر نور، رام چندر ورما ساحل،نیہا نزاکت، جتیندر پریتم،نردیش شرما،کمل اگنی،پلّوی، مادھوری سوینکار، کنچن اگروال، سونم چھاڑا، کلپنا شرما،جی سی مہتا، ہرمندر دنیش،مینا سود اور دیگر نے شاعری پیش کی ۔ایئر ہوسٹس عملہ کے ذریعے شاندار ضیافت کابھی انتظام بھی کیا اور دعوت سخن نے تمام جہاز میں سوار شعرو شاعری کے مسافروں کے لئے دوپہر لنچ کابھی اہتمام کرایا۔آخر میں منیش مدھو نے تمام شریک ہونے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔