جموں: ’ہندو نواز‘ تنظیموں سے بی جے پی لیڈران کی نیندیں حرام

لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر ان تنظیموں نے بی جے پی کے خلاف جارحانہ مہم شروع کی ہے۔ان تنظیموں میں شامل بعض سنگھ پریوار کے ناراض لیڈر بھی ہیں۔

جموں: ریاست جموں وکشمیر خاص طور سے جموں میں دایاں محاذ کی تنظیموں کی طرف سے سلسلہ وارتنقید اور لفظی حملوں کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی لیڈران کی نیندیں ان دنوں حرام ہوگئی ہیں۔ آنے والے لوک سبھا انتخابات، اسمبلی چناؤ، میونسپل اور پنچایاتی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو متعدد ہندو تنظیموں سے ہی سیاسی خطرہ لاحق ہے۔

ان دایاں محاذ کی تنظیموں کی طرف سے بھاجپا پر پی ڈی پی کے ساتھ تین سالہ اقتدار میں رہ کر جموں کے لوگوں کو ’شرمسار اور بے عزت‘کرنے کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔

ذرائع نے یو این آئی کو بتایاکہ بی جے پی لیڈران ان دنوں کافی فکر مند ہیں کیونکہ مجوزہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر ان تنظیموں نے پارٹی کے خلاف جارحانہ مہم شروع کی ہے۔ان تنظیموں میں بعض سنگھ پریوار کے ناراض لیڈران بھی شامل ہیں جن کا الزام ہے کہ بی جے پی نے ’ہندو مخالف ایجنڈا‘اپنایا ہے۔

اس سلسلہ میں اکھیل بھارتیہ ہندو مہا سبھا کا سب سے پہلا کنونشن جموں میں29جولائی 2018کو منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے دایاں محاذ کے سرکردہ لیڈران نے شرکت کی۔

سب سے زیادہ مقبول