کشمیر میں زبردست برف باری، لگاتار دوسرے دن بھی آمد و رفت بند

ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ بارڈر روڈس آرگنائزیشن اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا نے سڑک کو گاڑیوں کی آمدورفت کے قابل بنانے کے لئے اپنی مشینری اور افرادی قوت کو کام پر لگا دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

وادی کو ملک و بیرون دنیا کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر-جموں قومی شاہراہ تازہ برف باری اور کئی مقامات پر چٹانیں کھسک آنے کی وجہ سے جمعرات کو لگاتار دوسرے دن بھی ٹریفک کی نقل وحمل کے لئے بند رہی۔ ٹریفک حکام نے میڈیا کو بتایا کہ ’’شاہراہ کو جمعرات کے روز بھی تازی برف باری اور کئی مقامات پر چٹانیں کھسک آنے کے پیش نظر بند رکھنے کا فیصلہ لیا گیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ شاہراہ پر کسی بھی ایسے مقام پر کوئی گاڑی درماندہ نہیں ہے جہاں چٹانیں کھسک آنے کا خطرہ ہے۔ٹریفک پولیس کنٹرول روم میں تعینات ایک عہدیدار نے یو این آئی کو فون پر بتایا ’’جواہر ٹنل کے آرپار جواہر ٹنل، شیطان نالہ، بانہال اور قاضی گنڈ کے مقامات پر بھاری برف باری ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ رام بن اور رامسو کے درمیان کئی مقامات پر مٹی کے تودے گرآئے ہیں۔‘‘

ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ ’’بارڈر روڈس آرگنائزیشن اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا نے سڑک کو گاڑیوں کی آمدورفت کے قابل بنانے کے لئے اپنی مشینری اور افرادی قوت کو کام پر لگادیا ہے۔ تاہم لگاتار برف باری اور بارشوں کی وجہ سے بحالی کے کام میں اڑچنیں پیدا ہورہی ہیں۔‘‘

ادھر محکمہ موسمیات نے وادی میں اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید برف وباراں کی پیش گوئی کی ہے۔ وادی میں گذشتہ روز سے بھاری برف باری ہورہی ہے جس کے باعث معمولات زندگی درہم برہم ہوگئے ہیں اور دور افتادہ دیہات کو ضلع صدر مقامات سےرابطہ منقطع ہوا ہے۔ناساز گار موسمی حالات کے باعث وادی میں گذشتہ روز سے ہوائی ٹریفک بھی بند ہے اور سری نگر کے بین الاقوامی ایئر پورٹ پر پروازیں منسوخ ہوئی ہیں۔

قابل ذکر ہےکہ بدھ کے روز متعلقہ حکام نے شاہراہ پر یک طرفہ ٹریفک کھلا رکھنے کا فیصلہ لیا تھا اور گاڑیوں کو سری نگر سے جموں جانے کی اجازت تھی لیکن بانہال میں برف باری اور رام سو اور رام بن کے درمیان چٹانیں کھسک آنے کی وجہ سے شاہراہ کو بند رکھنے کا فیصلہ لیا گیا تھا۔

قریب تین سو کلو میٹر طویل قومی شاہراہ وادی کے لئے شہہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے بند رہنے سے اہلیان وادی کو گونا گوں مشکلات ومصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں ایک طرف اشیائے ضروریہ کی قلت پڑ جاتی ہے وہیں منافع خور اور ذخیرہ اندوذ عناصر بھی گراں فروشی کرکے لوگوں کےمصائب میں اضافہ کرنے میں کوئی پس وپیش نہیں کرتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔