سعودی فوجی افسران کو حراست میں لینے کا حوثی باغیوں کا دعویٰ

یمن میں سرگرم حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی سرحد کے قریب حملہ کر کے اس کے فوجی افسران کو حراست میں لے لیا ہے۔

سعودی فوجی افسران کو حراست میں لیا ہے، حوثی باغیوں کا دعویٰ
سعودی فوجی افسران کو حراست میں لیا ہے، حوثی باغیوں کا دعویٰ

ڈی. ڈبلیو

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یمنی حوثی باغیوں کی طرف سعودی عرب کی شمالی سرحد کے قریب نجران کے علاقے میں حملہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم سعودی عرب کی طرف سے اب تک نہ تو حوثی باغیوں کے حملے کی تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی ان کے اس دعوے کی کہ انہوں نے متعدد سعودی فوجی افسران کو پکڑ لیا ہے۔

حوثی باغیوں کے فوجی ترجمان کی طرف جاری کی جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تحریک نے دشمن کی فوج کے 'ہزاروں‘ اہلکار اور سینکڑوں گاڑیوں کو قبضے میں لیا ہے۔

روئٹرز کی طرف سے اس حملے کے بارے میں تصدیق کے لیے جب سعودی سربراہی میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو وہاں سے فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ سعودی سربراہی میں قائم یہ فوجی اتحاد یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سرگرم عمل ہے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ سعودی عرب کی دو بڑی تیل تنصیبات پر حملے کیے گئے تھے،جس کے بعد وہاں تیل کی پیداوار میں کمی آئی ہے اور خام تيل کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ ان حملوں کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کر لی تھی تاہم امریکا اور سعودی عرب سمیت کئی دیگر ممالک کی طرف سے اس کی ذمہ داری ایران پر عائد کی گئی ہے۔ امریکا نے ان حملوں کے بعد وہاں مزید فوجی دستے تعینات کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

Published: 29 Sep 2019, 7:00 AM