رمضان کے دوران سیکورٹی فورسیز کشمیر میں کارروائی نہیں کریں گی

محبوبہ مفتی نے کل جماعتی میٹنگ میں رمضان کے دوران ریاست میں جنگ بندی کی تجویز منظور کی گئی تھی، لیکن  بی جے پی لیڈروں نے اس تجویز کی جم کر نکتہ چینی کی تھی۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے رمضان کے دوران پرامن ماحول برقراررکھنے کی سمت میں بڑاقدم اٹھاتے ہوئے سیکورٹی فورسیز کو ہدایت دی ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں ماہ مبارک کے دوران کسی طرح کی کارروائی نہ کریں۔

مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ٹوئٹر پر یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ سیکورٹی فورسیز کو رمضان المبارک کے دوران جموں و کشمیر میں کارروائی نہیں کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ لیکن یہ واضح کیا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسیز پر حملہ ہونے اور بے قصور لوگوں کو بچانے کے لئے ضروری جوابی کارروائی کی جائے گی۔سنگھ نے کہا کہ مرکز کے فیصلے کی اطلاع وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو بھی دے دی گئی ہے۔

محبوبہ مفتی نے حال ہی میں ریاست میں کل جماعتی میٹنگ طلب کی تھی جس میں رمضان کے دوران ریاست میں جنگ بندی کی تجویز منظور کی گئی تھی۔ اس وقت ریاست میں بی جے پی لیڈروں نے اس تجویز کی نکتہ چینی کی تھی لیکن آج مرکز نے اچانک سیکورٹی فورسیز کو اس طرح کی ہدایت دے کر ریاست میں صورت حال کو معمول پر لانے کی سمت میں بڑا قدم اٹھایا ہے۔

ٹوئٹ میں کہا گیا ’حملے یا اگر معصوم لوگوں کی جانوں کو بچانا مقصود ہو تو سیکورٹی فورسز کے پاس جوابی کاروائی کا حق محفوظ ہے۔ سرکار کو توقع ہے کہ ہر ایک اس پہل میں اپنا تعاون کرے گا تاکہ مسلمان بھائی اور بہنیں رمضان کے روزے بغیر کسی تکلیف کے رکھ سکیں‘۔وزارت داخلہ نے کہا کہ اسلام کے نام پر بیوقوفانہ تشدد اور دہشت گردی کے مرتکب ہونے والی طاقتوں کو الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹوئٹ میں کہا گیا ’ایسی طاقتوں کو الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہے جو بیوقوفانہ تشدد اور دہشت گردی کا مرتکب ہوکر اسلام کا نام بدنام کرتی ہیں‘۔

بتادیں کہ سری نگر میں 9 مئی کا کُل جماعتی اجلاس وادی میں ہلاکتوں کے نہ تھمنے والے سلسلے کی وجہ سے پیدا شدہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں بلایا گیا تھا۔ اس میں ریاست کی تمام جماعتوں بشمول نیشنل کانفرنس، کانگریس، بی جے پی، سی پی آئی ایم، پی ڈی ایف، عوامی اتحاد پارٹی اور ڈی پی این کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔

وزیر اعلیٰ مفتی نے اجلاس کے اختتام پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اجلاس میں یہ بات ہوئی کہ ہم سب کو حکومت ہندوستان سے اپیل کرنی چاہیے کہ رمضان کے مبارک مہینے ، سالانہ امرناتھ یاترا اور عیدالفطر کے پیش نظر فائر بندی کا اعلان کیا جائے‘۔انہوں نے کہا تھا ’ جس طرح سے سابق وزیر اعظم واجپائی جی نے سنہ 2000 میں یہاں یکطرفہ فائر بندی کی تھی، اُن ہی خطوط پر حکومت ہندوستان کو بھی سوچنا چاہیے‘۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ فائر بندی کے اعلان سے مقامی لوگوں کو راحت نصیب ہوگی۔ اُن کا کہنا تھا ’ اس وقت جو مسلح تصادم ہورہے ہیں، کریک ڈاون ہورہے ہیں اور سرچ آپریشنز ہورہے ہیں، ان سے عام لوگوں کو بہت زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ چونکہ رمضان کا مہینہ شروع ہورہا ہے اور اس کے بعد یاترا کا مہینہ شروع ہورہا ہے تو ہمیں ایسے اقدامات اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے جن کے ذریعے یہاں کے لوگوں کا اعتماد بحال ہو اور ایک اچھا ماحول بنے جس میں عید بھی اچھی ہو اور یاترا بھی خوش اسلوبی سے اپنے تکمیل کو پہنچ جائے‘۔

بی جے پی جموں وکشمیر یونٹ کے ترجمان اعلیٰ سنیل سیٹھی نے 10 مئی کو جموں کے ترکوٹہ نگر میں واقع پارٹی دفتر پر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا ’ہم واضح طور پر کہہ دینا چاہتے ہیں کہ ملی ٹنسی کے خلاف جو مہم چل رہی ہے وہ اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ آخری مرحلے پر اپنے پاؤں واپس کھینچنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔ جنگجوؤں کا صفایا کرکے اس جنگ کو اپنے اختتام پر پہنچایا جائے۔ جنگ اپنے اختتام کو پہنچ گئی تو کشمیر میں اسی طرح امن بحال ہوگا جیسے پنجاب میں ہوا تھا‘۔ وادی میں گذشتہ 50 دنوں کے دوران تشدد کے مختلف واقعات میں کم از کم 70 انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول