کورونا: نئی اسٹڈی سے ملا سکون، ہوا کے رابطہ میں آنے پر 5 منٹ میں ہی کمزور ہونے لگتا ہے وائرس

برسٹل یونیورسٹی کے ایروسول ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر جوناتھن نے کہا کہ جب ایک شخص سے دوسرے کے درمیان کچھ دوری ہوتی ہے تو وائرس انفیکشن کا اثر گنوا دیتا ہے کیونکہ ایسے میں اس کا ایروسول پتلا ہو جاتا ہے۔

کورونا وائرس، تصویر آئی اے این ایس
کورونا وائرس، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

پوری دنیا میں قہر ڈھا رہے کورونا وائرس کو لے کر راحت بھری خبر ہے۔ ایک نئی اسٹڈی میں انکشاف ہوا ہے کہ ہوا میں آنے کے پانچ منٹ کے اندر ہی کورونا وائرس کے انفیکشن پھیلانے کی صلاحیت کافی کم ہو جاتی ہے، اور 20 منٹ کے اندر وائرس 90 فیصد تک بے دم ہو جاتا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں یہ حیرت انگیز باتیں سامنے آئی ہیں۔

انگریزی اخبار ’دی گارجین‘ میں اس نئی اسٹڈی کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ کووڈ-19 کے بڑھتے اثر کے درمیان اسے لے کر جاری تحقیق میں نئی جانکاریاں سامنے آ رہی ہیں۔ اب ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ یہ خطرناک وائرس ہوا کے رابطہ میں آنے کے 20 منٹ بعد انفیکشن کی اپنی صلاحیت کو کافی حد تک گنوا دیتا ہے۔


تحقیق کے ریزلٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس وائرس سے بچنے کا سب سے آسان اور اثردار طریقہ ماسک پہننا اور سماجی فاصلہ (سوشل ڈسٹنسنگ) کے ضابطوں پر عمل کرنا ہے۔ اسٹڈی کے مطابق اس وائرس کے اثر کو کم کرنے کے لیے ونٹلیشن (ہوادار جگہ) بھی ایک بہتر طریقہ ہے۔

برسٹل یونیورسٹی کے ایروسول ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر اور اس تحقیق کے چیف رائٹر جوناتھن ریڈ کے مطابق لوگ خراب ونٹلیشن والے علاقے میں رہ کر سوچتے ہیں کہ ایئربورن انفیکشن سے دور رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ایسا نہیں ہے، لیکن یہ بھی طے ہے کہ ایک دوسرے کے قریب رہنے سے ہی کورونا انفیکشن پھیلتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب ایک شخص سے دوسرے شخص کے درمیان کچھ دوری ہوتی ہے تو وائرس اپنی انفیکشن کی طاقت گنوا دیتا ہے کیونکہ ایسے میں اس کا ایروسول پتلا ہوتا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں وائرس کم انفیکشن والا ہوتا ہے۔


محققین نے ہوا میں کورونا وائرس کے پھیلنے کو لے کر ریسرچ کیا ہے جس میں وائرس کو دو الیکٹرک رِنگوں کے درمیان ہوا میں تیرنے دیا گیا ہے۔ محققین نے وائرس والے ذرات پیدا کرنے کے لیے ایک سامان تیار کیا اور انھیں سخت کنٹرول والی فضا میں پانچ سیکنڈ اور 20 منٹ کے درمیان کہیں بھی دو الیکٹرک رِنگوں کے درمیان تیرنے کی اجازت دی گئی۔ ریسرچ میں سائنسدانوں نے دیکھا کہ ایک انسان کے پھیپھڑے سے نکلنے کے بعد کورونا کے وائرس کا پانی کافی تیزی سے ختم ہو جاتا ہے اور فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کے لووَر لیول کے رابطے میں آنے کے بعد وائرس کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہوا میں آنے کے کچھ دیر بعد کاربن ڈائی آکسائیڈ انسانی خلیات کو انفیکشن کرنے کی وائرس کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔

ریسرچرس نے پایا کہ کسی دفتر کے ایک ایسے ماحول میں جہاں آس پاس کے علاقے کی نمی عام طور پر 50 فیصد سے کم ہوتی ہے، وائرس پانچ سیکنڈ کے اندر اپنی انفیکشن کی 50 فیصد صلاحیت گنوا دیتا ہے اور دھیرے دھیرے وائرس بے اثر ہونے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی زیادہ نمی والے ماحول میں، مثلاً اسٹیم روم یا شاوَر روم میں وائرس کی رفتار کافی دھیمی ہو جاتی ہے۔ حالانکہ محققین نے اخذ کیا کہ درجہ حرارت نے وائرل انفیکشن پر تھوڑا کم فرق ڈالا ہے اور گرم ماحول میں اس وائرس کی رفتار زیادہ تیز ہوتی ہے۔


ایسے حالات کو دیکھتے ہوئے جوناتھن ریڈ نے ماسک پہننے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اسے پہننے کی اپیل کی۔ محققین کو سبھی تین سورس-کوو-2 ویریئنٹ میں ایسا ہی یکساں اثر دیکھنے کو ملا جس میں الفا بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محققین آنے والے ہفتوں میں اومیکرون ویریئنٹ کے ساتھ بھی تجربہ شروع کرنے کی امید کر رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔