عدالت کا فیصلہ قابل ستائش: غلام نبی آزاد

مرکزی حکومت نے اپنے گورنروں کے ذریعہ کئی ریاستوں میں جیسے اروناچل پردیش، میگھالیہ، منی پوراور گوا میں قانون اور آئین کی پاسبانی نہیں کی۔

عدالت کے فیصلہ کے بعد کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج حضرات کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے جمہوریت بچا لی ۔ آزاد نے کہا کہ اس فیصلہ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ملک میں ابھی قانون باقی ہے۔ مرکزی حکومت نے اپنے نمائندہ گورنروں کے ذریعہ کئی ریاستوں میں جیسے اروناچل پردیش، میگھالیہ، منی پوراور گوا میں قانون اور آئین کی پاسبانی نہیں کی۔

کرناٹک میں کسی پارٹی کو اکثریت نہیں ملی تھی ہم نے یہ دیکھتے ہوئے کہ گورنر نے اروناچل پردیش، منی پور اور گوا میں سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے والی پارٹی کو حکومت سازی کے لئے نہیں بلایا تھا اس لئےہم نے جے ڈی ایس اور آزاد امیدواروں کے ساتھ اتحاد کیا اور گورنر سے مل کر بی جے پی سے پہلے حکومت سازی کا دعوی پیش کیا ۔ اس کے لئے تین مرتبہ کانگریس ۔جے ڈی ایس نے گورنر سے ملاقات کی ۔ لیکن حیرت تب ہوئی جب گورنر نے ہمیں نہ بلاکر بی جے پی کو حکومت سازی کے لئے مدعو کیا ۔یہ دیکھے بغیر کے بی جے پی کے پاس مطلوبہ نمبر دستیاب نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد ہندوستان میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت ثابت کرنے کے لئے کبھی دو ہفتہ کا وقت نہیں دیا گیا اور زیادہ تر معاملوں میں دو یا تین دن کا ہی وقت اکثریت حاصل کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔ لیکن کرناٹک گورنر نے ایسا کرکے ہارس ٹریڈنگ کے لئے راستہ کھول دیا۔گورنر کا فیصلہ نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے جمہوریت کا گلا گھونٹنے کی کوشش بھی کی گئی، لیکن عدلیہ نے صحیح اور تاریخی فیصلہ لے کر ایسا نہیں ہونے دیا۔اس موقع پر انہوں نے عدالت کے فیصلے کی باریکیوں کا بھی ذکر کیا۔

سب سے زیادہ مقبول