’گاندھی کی وراثت نے ہندوستان اور جرمنی کو قریب لایا‘، سابرمتی آشرم پہنچ کر جرمن چانسلر مرز نے لکھا خاص پیغام
جرمن چانسلر فریڈرک مرز جب آج سابرمتی آشرم پہنچے تو وہاں ان کا استقبال ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا۔ دونوں نے مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا اور سکون کے کچھ لمحات گزارے۔

جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز اپنے پہلے دورۂ ہند پر پیر کے روز گجرات واقع احمد آباد پہنچے۔ فریڈرک مرز ہندوستان پہنچنے کے بعد تاریخی سابرمتی آشرم پہنچے جہاں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی پہلے سے ہی ان کا استقبال کرنے کے لیے موجود تھے۔ دونوں نے مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا اور سکون کے کچھ لمحات گزارے۔
اس دوران فریڈرک مرز نے کہا کہ مہاتما گاندھی کی وراثت ہندوستانیوں اور جرمنوں کو دوست کی شکل میں جوڑتی ہے اور ان دونوں ممالک کو قریب لانے میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آج کی دنیا کو گاندھی جی کی تعلیمات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ سابرمتی آشرم کی ڈائری (جس میں مہمانان خصوصی پیغامات لکھتے ہیں) میں مرز نے یہ خاص پیغام بھی لکھا کہ ’’مہاتما گاندھی کا آزادی اور ہر شخص کے وقار میں اٹوٹ بھروسہ آج بھی ہمیں متاثر کرتا ہے۔‘‘ آگے وہ لکھتے ہیں کہ ’’یہ وراثت ہندوستانیوں اور جرمنوں کو دوست کی شکل میں جوڑتی ہے، خاص کر ایسے وقت میں جب دنیا کو گاندھی جی کی تعلیمات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘‘

فریڈرک مرز اور ہندوستانی وزیر اعظم مودی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی مورتی پر عقیدت کے پھول چڑھائے، اور پھر اس کے بعد ’ہردے کنج‘ کا دورہ کیا۔ ہردے کنج وہ کمرہ ہے جہاں تحریک آزادی کے وقت گاندھی جی اپنی شریک حیات کستوربا گاندھی کے ساتھ رہتے تھے۔ آشرم میں فریڈرک مرز نے چرخہ پر کھادی کا سوت کاتنے کا عمل بھی دیکھا۔ گاندھی جی نے آزادی کی تحریک کے دوران کھادی اور خود کفیلی کو فروغ دینے کے لیے چرخہ کو علامت بنایا تھا۔