لکھنؤ: دلت لڑی کی عصمت دری، چہرہ کیا مسخ

ملزمان نے دلت لڑکی کی آبروریزی کے بعد اس کا چہرہ اینٹ اور پتھروں سے مسخ کر دیا۔ متاثرہ نے مان کھیڑہ گاؤں کے ایک رہائشی سمیت تین نوجوانوں پرعصمت دری کا الزام عائد کیا ہے۔

ملک بھر سے خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات پیش آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بار اتر پردیش کی دارالحکومت لکھنؤ میں انسانیت شرمسار ہوئی ہے۔ مڑیاؤں علاقے میں کرایہ کے ایک مکان میں رہنے والی دلت لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی پھر ملزمان نے اینٹ پتھروں سے لڑکی کے چہرہ کو کچل دیا اور جان لینے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ منگل کی شام سےغائب لڑکی بدھ کی شام کو نازک حالت میں ٹراما سینٹر میں ملی۔ ملزمان نے عصمت دری کے بعد لڑکی کا چہرہ بری طرح مسخ کر دیا ۔ متاثرہ نے مان کھیڑہ گاؤں کے ایک نوجوان بووا سمیت تین نوجوانوں پر ریپ کا الزام لگایا ہے ۔ پولس نے بووا کو گرفتار کر لیا ہے۔

تھانہ انچارج تیج پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ بنیادی طور سے ملیح آباد کی رہائشی لڑکی کے والد کی موت ہو چکی ہے۔ وہ مڑیاؤں میں اپنی ماں اور چار بھائیوں کے ساتھ رہتی ہے۔ منگل کی شام وہ گھر سے نکلی لیکن دیر رات تک نہیں لوٹی۔ خاندان کے لوگوں نے اسے کافی تلاش کیا لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

دریں اثنا کچھ لوگ ایک لڑکی کو لہو لہان حالت میں ٹراما سینٹر کے گیٹ پر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ہوش میں آنے پر لڑکی نے بتایا کہ منگل کی شام وہ گھر سے نکلی ، اسے بووا سنسان مقام پر لے گیا، وہاں اس کے 3 دیگر ساتھی پہلے سے ہی موجود تھے۔ سبھی نے اس کے ساتھ منہ کالا کیا اور مزحمت کرنے پر اس کا چہرہ مسخ کردیا۔

دلت لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ بیہوش ہو گئی، اس کے بعد کیا ہوا اور وہ ٹراما سینٹر کیسے پہنچی اسے کچھ نہیں معلوم۔ وہیں پولس کے مطابق ’’ملزم بووا کا کہنا ہے کہ لڑکی سے اس کی واقفیت ہے ، اسے بائیک سے گرگئی تھی جس کے سبب اسے چوٹ لگی ہے۔ ‘‘

سب سے زیادہ مقبول