عراق پر حملے کی مخالفت کرنے والے فرانسیسی صدر انتقال کر گئے

فرانس کے سابق صدر ژاک شیراک 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ۔ شیراک عراق پر امریکی سربراہی میں ہونے والے حملے کے سخت مخالف تھے۔

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا

ڈی. ڈبلیو

سابق فرانسیسی صدر ژاک شیرک آج جمعرات 26 ستمبر کو پیرس میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کے داماد فریڈیرک سکالا بارو نے خبر رساں ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ شیراک اپنے چاہنے والوں کے درمیان 'پر امن انداز‘ میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے شیراک کی موت کی وجہ نہیں بتائی تاہم اطلاعات کے مطابق شیراک شدید بیمار تھے اور گزشتہ کچھ عرصے سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے تھے۔

شیراک 1995ء سے 2007ء تک فرانس کے صدر رہے تھے۔ اس سے قبل وہ دو دہائیوں تک پیرس کے میئر بھی رہے۔ ان کے انتقال کی خبر ملنے پر فرانس کی نیشنل اسمبلی میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ ان کے چاہنے والے پیرس میں واقع ان کی رہائش گاہ کے باہر پھولوں کے گلدستے لا رہے ہیں۔

کنزرویٹیو جماعت سے تعلق رکھنے والے شیراک کو امریکی سربراہی میں عراق میں 2003ء میں حملے کی شدید مخالفت کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ پہلے فرانسیسی رہنما تھے جنہوں نے ہولوکاسٹ میں فرانس کے کردار کو تسلیم کیا تھا۔

ژاک شیراک کے انتقال پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے سابق فرانسیسی صدر کو جرمنی کا گہرا دوست قرار دیتے کہا، ''میں اس عظیم سیاستدان اور یورپی رہنما کے انتقال پر ان کے خاندان اور فرانسیسی قوم کے ساتھ افسوس میں شریک ہوں۔‘‘

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔