چین میں مہلک وائرس: سینکڑوں طلبہ اور ان کے والدین پریشان

چین میں تعلیم حاصل کرنے والے سینکڑوں طلبہ کرونا وائرس سے متاثرہ علاقوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں جبکہ ان کے گھر والے بھی پریشان ہیں۔

چین میں مہلک وائرس: پاکستانی طلبہ اور والدین پریشان
چین میں مہلک وائرس: پاکستانی طلبہ اور والدین پریشان
user

ڈی. ڈبلیو

ڈی ڈبلیو نے چین میں رہنے والے کئی طالب علموں سے رابطہ کیا اور وہاں کے حالات جاننے کی کوشش کی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے طالب علم سید احتشام حسن، جو بیجنگ ٹیکنالوجی اینڈ بزنس یونیورسٹی میں میکینکل انجنیئرنگ میں ماسٹرز کر رہے ہیں، نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان کے گھر والے روزانہ دو سے تین مرتبہ فون کر کے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان واپس آ جاو، ''لیکن ہم پڑھائی چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہیں؟ میرا بھائی بھی بیجنگ میں پڑھتا ہے اور اس کے علاقے میں تین افراد اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں، جس سے ہماری مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ ہم نہ کہیں جا سکتے ہیں اور نہ گھوم پھر سکتے۔ باہر نہ جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں ایک چینی فیسٹیول کی وجہ سے رش بہت ہے۔ تو سب لوگ خوف کے عالم میں ہیں کہ کہیں وائرس اس رش کی وجہ سے ان کو نہ لگ جائے۔‘‘

ماضی میں سارس وائرس کے پھیلنے پر چین پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے حقائق چھپائے ہیں۔ ڈی ڈبلیو نے احتشام سے پوچھا کیا اب بھی ایسا ہو رہا ہے، تو ان کا جواب تھا، ''میرا خیال ہے کہ انہوں نے ماضی سے سیکھا ہے اور اس پر سینسرشپ نہیں ہے۔ میڈیا لمحہ بہ لمحہ اس کی تفصیلات دے رہا ہے اور یہاں حکومت کو احساس ہے کہ یہ بڑی وباء ہے اور انہوں نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔ تاہم وہ یہ نہیں چاہتے کہ اس سے افراتفری پھیلے یا لوگ بلا ضرورت خوف کا شکار ہو جائیں۔‘‘

لاہور سے تعلق رکھنے والی حنا فاطمہ، جو اسی یونیورسٹی میں فوڈز سائنسز میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں، کا کہنا تھا کہ ان کے گھر والے بہت پریشان ہیں، ''ہم یہاں محفوظ تو ہیں لیکن وباء کا کچھ نہیں پتا کہ کب کیا ہو جائے۔ تو ایک عجیب سا خوف ہے لیکن ہم سے زیادہ ہمارے خاندان والے پریشان ہیں۔ روزانہ والدین اور دوسرے رشتے داروں کی کالز آتی ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ واپس آجائیں لیکن ہمیں یہ ڈر ہے کہ ہماری اسٹڈی متاثر ہو گی۔‘‘

اسی ادارے کے طالب علم عثمان چوہدری، جو فیصل آباد سے تعلق رکھتے ہیں اور چین میں فوڈز سائسنز میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ابھی تک کوئی پاکستانی طالب علم اس وائرس کا شکار نہیں ہوا لیکن ہمیں خوف بہت ہے۔ بیجنگ میں پاکستانی طلبہ کی ایک بڑی تعداد ہے اور وہاں بہتر کے قریب کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ تو خطرے کی گھنٹی تو ہے۔ تاہم یہاں حکومت اچھے اقدامات کر رہی ہے۔ اگر کوئی ماسک کے بغیر باہر نکل جائے تو فورا اسے ماسک پہناتے ہیں۔ اس کے علاوہ بخار بھی مسلسل چیک کر رہے ہیں۔ تو میں مطمئن ہوں۔‘‘

تاہم فیصل آباد میں عثمان چوہدری کی فیملی پریشانی کا شکار ہے۔ عثمان کے والد محمد بشیر صنوبر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''مجھے اور عثمان کی والدہ کو بہت پریشانی تھی۔ عثمان نے ہمیں فون کر کے بتایا کہ یونیورسٹی بند کر دی گئی ہے اور وہ احتیاط سے کام لے رہا ہے۔ لیکن ہم والدین ہیں، ہمیں تو فکر ہو گی اور ہمیں تو دھڑکا لگا رہے گا کہ کہیں وائرس ہمارے بچے کو نقصان نہ پہنچائے۔‘‘

پاکستان میں بھی اس وائرس کا خوف پایا جاتا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اب تک چار چینی اور ایک پاکستانی کو وائرس میں مبتلا ہونے کے شبے میں لاہور اور ملتان کے اسپتالوں میں لے جایا گیا۔ تاہم وفاقی وزارت صحت کےا یک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ابھی تک پاکستان میں ایک بھی کیس کی کنفرمیشن نہیں ہوئی ہے۔ پانچ میں سے چار بندے بالکل ٹھیک ہیں اور ایک کو بی انفلوائنزا ہوا ہے۔ تو پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ حکومت نے خاطر خواہ اقدامات اٹھا لیے ہیں۔‘‘

پاکستان میں چینی افراد نہ صرف ہوائی جہاز بلکہ بسوں اور ٹرکوں کے ذریعے بھی آتے ہیں۔ زمینی راستے سے آنے والے چینی شہریوں کی ایک بڑی تعداد گلگت بلتستان کے ذریعے پاکستان آتی ہے۔ وائرس کی وجہ سے جی بی میں بھی خوف کا ماحول ہے اور جی بی حکومت نے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ رواں برس خنجراب کی سرحد دیر سے کھولیں۔ جی بی وزیر اعلی کے ترجمان فیض اللہ فراق نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''عموما خنجراب کی سرحد، جو چین سے ملتی ہے، جون کے شروع میں کھول دی جاتی ہے۔ ہم نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ اسے جون کے اختتام پر کھولا جائے تاکہ ہم حفاظتی اقدامات بھر پور طریقے سے اٹھا سکیں۔ ہم نے پہلے ہی مختلف پروجیکٹس پر کام کرنے والے چینی افراد کے معائنے کے لیے محکمہ صحت کو لکھ دیا ہے۔ یہ خطرناک وائرس ہے اور ہم اس سے بچاو کے لیے تمام احتیاطی تدابیر کریں گے۔‘‘