ٹڈی دل کے نئے اور بڑے حملے کا خدشہ

اقوام متحدہ نے مشرقی افریقہ اور پاکستان میں ٹڈی دل کے حملے سے پیدا شدہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹڈی دل کے نئے اور بڑے حملے کا خدشہ
ٹڈی دل کے نئے اور بڑے حملے کا خدشہ
user

ڈی. ڈبلیو

مشرقی افریقہ میں ٹڈی دل کے حملوں کے باعث تیرہ ملین سے زائد انسانوں کے فاقوں کا شکار ہو جانے کا شدید خطرہ ہے۔

خطرناک ٹڈی دل مغربی ایشیا اور مشرقی افریقہ میں کئی ملین انسانوں کی بقا خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے صورت حال کو انتہائی تشویش ناک قرار دے رکھا ہے۔ ٹڈی دل کے باعث سوا کروڑ انسانوں کو فاقوں کا خطرہ ۔

صحرائی ٹڈیوں نے ایتھوپیا، صومالیہ، کینیا تنزانیہ اور یوگنڈا کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ پاکستان نے بھی جنوری میں صحرائی ٹڈیوں سے نمٹنے کے لیے قومی ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

ماہرین نے اس برس مارچ اور اپریل کے مہینوں کے دوران ٹڈی دل کے ایک نئے اور بڑے حملے سے خبردار کیا ہے۔ فصل کی کاشت کے موسم میں نئے حملے سے خوراک کی قلت پیدا ہونے کا بھی خطرہ ہے۔

مشرقی افریقی ممالک کی ڈیویلپمنٹ سے متعلق بین الاحکومتی تنظیم آئی جی اے ڈی نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان ممالک میں موجود ٹڈیاں تیزی سے افرائش نسل کر رہی ہیں اور ان کے انڈوں سے اپریل کے مہینے تک مزید صحرائی ٹڈیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

مشرقی افریقی ممالک میں فصلوں کی کاشت انہی مہینوں کے دوران کی جاتی ہے۔ صحرائی ٹڈیوں نے ان ممالک میں پہلے ہی فصلوں کو تباہ کر رکھا ہے اور مزید تباہی کی صورت میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ٹڈیوں کی بے پناہ افزائش، پاکستان نے ایمرجنسی نافذ کر دی

علاوہ ازیں ٹڈیوں نے شمالی سوڈان کی جانب بھی سفر شروع کر دیا ہے۔ اس جنگ زدہ ملک میں پہلے ہی چھ ملین سے زائد شہریوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ ماہرین نے ٹڈیوں کے حملے سے صورت حال مزید سنگین ہو جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

صحرائی ٹڈیاں پتے، پھول، پھل اور بیجوں کے علاوہ درخت تک چٹ کر جاتی ہیں۔ ایک کلو میٹر کے رقبے میں 40 ملین ٹڈیاں ہو سکتی ہیں، جو ایک دن میں 150 کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتی ہیں۔ ٹڈیوں کا دل روزانہ 35 ہزار انسانوں کی خوراک ختم کر سکتا۔