بینکوں کے انضمام کے خلاف ملازمین کا غصہ عروج پر، پارلیمنٹ کے سامنے کریں گے دھرنا

بینکنگ سیکٹر کی 9 ٹریڈ یونینوں کے مشترکہ اسٹیج یو ایف بی یو نے حکومت کے ذریعہ 10 سرکاری بینکوں کا انضمام کرنے کے فیصلہ کے خلاف اگلے ہفتہ 20 ستمبر کو پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مودی حکومت کے ذریعہ ملک کے 10 سرکاری بینکوں کا انضمام کر چار بینک بنائے جانے کے فیصلے کو لے کر ملک کے بینک ملازمین میں کافی ناراضگی ہے۔ گزشتہ مہینے وزیر مالیات نرملا سیتا رمن کے ذریعہ اس فیصلے کے اعلان کے بعد سے ملک بھر میں بینک ملازمین پرامن احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اب مضبوطی کے ساتھ اس فیصلے کی مخالفت کرنے کے لیے بینک ملازمین نے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے تحت بینکنگ سیکٹر کی 9 ٹریڈ یونینوں کے مشترکہ اسٹیج ’دی یونائٹیڈ فورم آف بینک یونینس‘ یعنی یو ایف بی یو نے حکومت کے ذریعہ اعلان کردہ بینک انضمام کے منصوبہ کی مخالفت میں اگلے ہفتہ پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آل انڈیا بینک ایمپلائی ایسو سی ایشن (اے آئی بی ای اے) کے جنرل سکریٹری سی ایچ وینکٹ چلم نے بتایا کہ یو ایف ب ی یو نے 20 ستمبر کی صبح 10.30 بجے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی کے ساتھ یو ایف بی یو نے مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتا رمن کو ایک میمورینڈم دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کے فیصلے کی مخالفت کر رہے آل انڈیا بینک ایمپلائی ایسو سی ایشن کے اراکین نے اس سے پہلے 31 اگست کو اپنے اپنے بینکوں میں کالی پٹی باندھ کر کام کرتے ہوئے مظاہرہ کیا تھا۔ ایسو سی ایشن کے جنرل سکریٹری سی ایچ وینکٹ چلم کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت نے یہ فیصلہ غلط وقت پر لیا ہے اور اس کے تجزیہ کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس انضمام کا مطلب چھ بینکوں کا بند ہونا ہے، جنھیں بننے میں سالوں لگے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہڑتال پر جانے کو لے کر دہلی میں ایسو سی ایشن کی میٹنگ ہوگی۔

غور طلب ہے کہ مرکزی حکومت نے 30 اگست کو 10 سرکاری بینکوں کا انضمام کر چار بڑے بینک بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا اعلان کرتے ہوئے وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے بتایا کہ سرکاری نے پنجاب نیشنل بینک (پی این بی)، کینرا بینک، یونین بینک آف انڈیا اور انڈین بینک میں کچھ دوسرے سرکاری بینکوں کا انضمام کر چار بینک بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت پی این میں اورینٹل بینک آف کامرس اور یونائٹیڈ بینک آف انڈیا کا، کینرا بینک میں سنڈیکیٹ بینک کا، یونین بینک آف انڈیا میں آندھرا بینک اور کارپوریشن بینک کا اور انڈین بینک میں الٰہ آباد کا انضمام کیا جائے گا۔ اس انضمام کے بعد پی این بی ملک کا دوسرا اور کینرا بینک چوتھا سب سے بڑا سرکاری بینک ہوگا۔