بچوں پر جنسی تشدد: ملک میں ایمرجنسی جیسا ماحول، رول ماڈل گجرات کا حال سب سے برا

’کیلاش ستیارتھی چلڈرن فاؤنڈیشن‘ نے جنسی تشدد معاملے پر بچوں کو جلد انصاف دلانے کے مقصد سے ایک سروے کیا جس کے نتائج نے حیران کرنے والے اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔

By بھاشا سنگھ

اس وقت پورے ملک میں جموں کے کٹھوعہ میں آٹھ سالہ آصفہ کے ساتھ ہوئی درندگی کے خلاف عوام کی ناراضگی اپنے عروج پر ہے اور اس کو انصاف دلانے کے لیے بے شمار آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک حقیقت ایسی بھی ہے جو انتہائی خوفناک ہے۔ اس وقت ملک میں (2016 تک) ایک لاکھ سے زیادہ بچوں پر تشدد اور جرائم کے معاملے زیر التوا ہیں۔ ایک حقیقت اور جان لیجیے، اگر آج ترقی یافتہ کہی جانے والی ریاست گجرات میں کسی بچی کے ساتھ عصمت دری ہوتی ہے تو اسے انصاف پانے کے لیے 53 سالوں کا انتظار کرنا پڑے گا۔ یہ باتیں سرکاری اعداد و شمار پر مبنی ہیں جنھیں آج ’کیلاش ستیارتھی چلڈرن فاؤنڈیشن‘ نے جاری کیا ہے۔

فاؤنڈیشن کے ذریعہ جاری رپورٹ کے مطابق اگر 2016 کے بعد ملک کی تمام ریاستوں میں بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے والے قانون ’پوسکو‘ کے تحت معاملہ درج نہ ہو تو گجرات میں درج معاملوں میں انصاف ملتے ملتے سنہ 2071 ہو جائے گا۔ یعنی جس بچے یا بچی کے ساتھ 2016 میں غلط کاری ہوئی ہو ان کو 55 سال بعد 2071 میں انصاف ملے گا۔ اسی طرح 2016 میں ظلم کے شکار ہونے والے بچوں کو مہاراشٹر میں سنہ 2032 تک، مغربی بنگال میں سنہ 2035 تک، دہلی اور بہار میں سنہ 2029 تک، اتر پردیش اور راجستھان میں سنہ 2026 تک انصاف مل پائے گا۔

یہ رپورٹ ’دی چلڈرن کین ناٹ ویٹ‘ (بچے انتظار نہیں کر سکتے) عنوان کے تحت تیار کی گئی ہے اور اس کے پس پردہ مقاصد پوسکو کو قاعدے سے نافذ کیے جانے کو یقینی بنانا اور اس کے حق میں ماحول بنانا ہے۔ موجودہ وقت میں بچوں پر جس طرح کے مظالم ہو رہے ہیں اور جس طرح کی بربریت دیکھنے کو مل رہی ہے، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ جرائم پیشوں کے دل میں قانون کا کوئی خوف ہی نہیں ہے۔

اس سلسلے میں نوبل انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی نے ’نو جیون‘ کو بتایا کہ ’’جہاں تک بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کا سوال ہے، ملک میں نیشنل ایمرجنسی ہے۔ بچے خوف کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جموں کے کٹھوا میں آٹھ سالہ بچی کے ساتھ ہوئی واردات نے پورے ملک کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ اس معاملے پر جس طرح سے قانون سے الگ جا کر قانونی عمل کو روکنے کی کوشش کی گئی، وہ شرمناک ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’آئندہ انتخابات کے لیے سیاست کرنے کی جگہ بچوں کے مستقبل کے لیے سیاست کرنی چاہیے۔‘‘ کیلاش ستیارتھی نے مطالبہ کیا کہ جس طرح سے ’گرین ٹریبونل‘ ماحولیات سے متعلق تمام معاملے دیکھتا ہے اسی طرح بچوں کا بھی ٹریبونل بنایا جانا چاہیے تاکہ ان کے ساتھ جلد سے جلد انصاف ہو سکے۔ بچوں کو تشدد سے بچانے کے لیے الگ سے انتظام ہونا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ کو ایک پورا دن بچوں کے اس مسئلہ کا حل نکالنے میں خرچ کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں بجٹ کا انتظام بھی کرنا چاہیے۔

ایسا امکان ہے کہ کٹھوعہ عصمت دری کے بعد سے ملک بھر میں جو ناراضگی دکھائی دے رہی ہے اس کے پیش نظر کیلاش ستیارتھی کوئی بڑی تحریک شروع کر سکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ تقریباً 6 مہینے قبل بچوں پر ہونے والے جنسی تشدد کے خلاف انھوں نے ’بھارت یاترا‘ نکالی تھی۔