مراد آباد اور امروہہ میں تعزیہ ہائی ٹینشن کی زد میں آیا، درجنوں تعزیہ دار زخمی

بجلی محکمہ کے مطابق ہائی ٹینشن تاروں کے پاس جو آبادی ہے وہ غیر قانونی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب یہ آبادی بس رہی تھی تو متعلقہ محکمہ یا ضلع کے اعلیٰ افسران نے اس عمل کو کیوں نہیں روکا۔

تصویر ناظمہ فہیم
تصویر ناظمہ فہیم
user

ناظمہ فہیم

مرادآباد: شہیدانِ کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہیں عزادرانِ حسین ؑ ماتم کرتے نظر آئے تو کہیں تعزیہ کا جلوس نکال کر امام حسین ؑ اور ان کے جاں نثار ساتھیوں کی قربانیوں کو یاد کیا گیا ۔ مرادآباد میں تعزیہ داروں کے جلوس کا سلسلہ دیر رات تک چلا، وہیں مرادآباد شہر اور اس کے قریب امروہہ میں بجلی کے ہائی ٹینشن تاروں کی زد میں آئے تعزیوں میں آگ لگنے سے تقریباً چار درجن افرادبری طرح جھلس گئے ۔ خیر یہ رہی کہ اس حادثہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

زخمی ہونے والے تعزیہ دار اسپتال میں علاج کے دوران
زخمی ہونے والے تعزیہ دار اسپتال میں علاج کے دوران

امروہہ کے ڈڈولی میں ہائی وولٹیج تاروں کی زد میں آئے تعزیہ کے اوپری حصہ میں آگ لگ گئی جس سے ٹرالی پر سوار تعزیہ کے ساتھ چل رہے دو افراد بری طرح جھلس گئے۔ ساتھ ہی آگ لگنے سے نیچے گرے تعزیہ کے ارد گرد چل رہے لوگ بھی آگ کی زد میں آگئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کرانے کے لئے وہاں موجود لوگوں نے ہاتھوں پر اٹھا کر قریب کے اسپتال پہنچایا۔ تعزیہ کے ساتھ چل رہے دونوں لوگوں کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔ ڈڈولی میں ہوئے اس حادثے کے لئے بجلی محکمہ کی لاپرواہی کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔

دوسری طرف مرادآباد کے جینتی پور میں اس وقت کہرام مچ گیا جب رات کے وقت تعزیہ کو کربلا لے جاتے ہوئے سڑک کے بیچ سے گزر رہے ہائی ٹینشن تار کی زد میں تعزیہ آگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے تعزیہ میں آگ لگ گئی اور تعزیہ زمین پر آگرا ۔ وہاں موجود سینکڑوں کی بھیڑ کے چلتے بڑی تعدا میں لوگ آگ کی زد میں آگئے ۔ تقریباً 32 افراد کو ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ان کا علاج چل رہا ہے۔

زخمی ہونے والے تعزیہ دار اسپتال میں علاج کے دوران
زخمی ہونے والے تعزیہ دار اسپتال میں علاج کے دوران

جینتی پور میں ہوئے اس حاد ثے کو لے کر وہاں کے لوگوں میں زبردست غصہ پھوٹ پڑا جس کے بعدبھیڑ نے وہاں جام لگا دیا۔ اطلاع پاکر ضلع و پولس انتظامیہ کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچے ۔ ناراض بھیڑ کا کہنا تھا کہ گزشتہ کافی وقت سے متعلقہ محکمہ کو باور کرایا جارہا تھا کہ یہ ہائی ٹینشن تار کافی نیچے آچکے ہیں جن کی وجہ سے کسی بڑے حادثے کا خطرہ ہے یا تو ان تاروں کو اوپر کیا جائے یا پھر یہاں سے ہٹایا جائے ۔ واضح ہو کہ یہ ہائی ٹینشن تار اس وقت سے یہاں موجود ہیں جب یہاں آبادی نہیں تھی اور ان تاروں کے ذریعہ دوسرے اضلاع کو بجلی کی سپلائی ہوتی ہے۔ بجلی محکمہ کے مطابق ان تاروں کے پاس جو بھی آبادی ہے وہ غیر قانونی ہے ۔سوال یہ ہے کہ اگر یہ آبادی غیر قانونی بسائی گئی ہے تو متعلقہ محکمہ یا ضلع کے اعلیٰ افسران اس وقت کہاں سو رہے تھے جب آبادی بس رہی تھی۔ کیوں اس وقت اس پر روک نہیں لگائی گئی یا پھر اس کا متبادل تلاش کیوں نہیں کیا گیا ۔ گھنی آبادی سے گزر رہے ان تاروں نے اس حادثے کے ذریعہ یہ ضرور باور کرادیا ہے کہ آگے چل کر اس سے بھی بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔ اس لئے ضرور ی ہے کہ وقت رہتے اس پر کاروائی ہو۔