دارالعلوم دیوبند میں جشن یوم آزادی منانے کا فیصلہ، علماء کی قربانیوں کو کیا جائے گا یاد

دارالعلوم دیوبند کے احاطہ میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کے ساتھ اکابر علماء دیوبند کی قربانیوں کو بھی یاد کیا جائے گا۔ سرکردہ شخصیات کے علاوہ بڑی تعداد میں مدرسہ کے اساتذہ و طلبہ شرکت کریں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

پریس ریلیز

فیروز خان

عالم اسلام کی ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند انتظامیہ کی جانب سے اس مرتبہ یوم آزادی کے موقع پر ادارہ میں جشن یوم آزادی تقریب منعقد کرنے کے فیصلہ نے ناقدین کو کرارا جواب دیا ہے، جشن یوم آزادی کے عنوان پر ادارہ میں منعقد ہونے والے پروگرام میں قومی پرچم لہرانے کے ساتھ ہندوستانی عوام کو جنگ آزادی میں علماء دیوبند اور دارالعلوم دیوبند کی قربانیوں اور ان کی خدمات سے روشناش کرایا جائے گا، دارالعلوم دیوبند میں ایک عرصہ بعد منعقد کیے جانے والے پروگرام کو یوگی حکومت کے ذریعہ اترپردیش مدارس کے لئے جاری ہدایت نامہ سے بھی جوڑ کر دیکھا جارہا ہے، تاہم لوگوں نے ادارہ میں یوم آزادی کے موقع پر انتظامیہ کی جانب سے ایک اہم اجلاس منعقد کیے جانے والے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل یوم آزادی کے موقع پر طلبہ کی جانب سے ادارہ میں جشن آزادی کے عنوان پر پروگرام منعقد ہوتا رہا ہے لیکن اس مرتبہ باضابطہ دارالعلوم انتظامیہ کی جانب سے پورے جوش و خروش کے ساتھ یوم آزادی کا جشن منایا جائے گا جس کا لوگوں نے استقبال کیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق آج کارکنانِ دارالعلوم اور ادارہ کے طلبہ عزیز کے نام دو مختلف لیٹر پیڈ نائب مہتمم مولانا عبد الخالق مدراسی کے دستخط سے جاری کیے گئے ہیں جس کو احاطہ دارالعلوم کی مختلف دیواروں پر چسپاں کیے گئے ہہیں، وہ لیٹر پیڈ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو رہے ہہیں، لیٹر پیڈ میں جشن یوم آزادی کے موقع پر ادارہ میں منعقد ہونے والے پروگرام کی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔

مولانا مدراسی کے دستخط سے دفتری عملہ کے نام جاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ امسال مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند کی طرف سے جشن یوم آزادی اور پرچم کشائی کی تقریب 15 اگست 2019ء بروز جمعرات صبح ساڑھے دس بجے اعظمی منزل کے سامنے وسیع و عریض میدان میں منعقد ہوگی، قومی پرچم کشائی کا انعقاد مولانا عبد الخالق مدارسی کے ہاتھوں عمل میں آئے گا، جبکہ مولانا سید ارشد مدنی صاحب صدر جمعیۃ علماء ہند و أستاذِ حدیث دارالعلوم دیوبند کا پروگرام میں کلیدی خطاب ہوگا، مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو مجسٹریٹ سہارنپور جناب آلوک کمار پانڈے بھی سامعین کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں گے- پروگرام میں سرکاری افسران و سرکردہ شخصیات کی شرکت بھی متوقع ہے، تقریب میں دفتری عملہ کی شرکت کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔

تمام اساتذہ کرام اور طلبہ عزیز سے بھی اس پرمسرت تقریب میں شرکت کی درخواست کی گئی ہے- مدارس میں عید الأضحىٰ کی تعطیلات کے سبب طلبہ و اساتذہ کرام اپنے اپنے وطن عید کی خوشیاں منانے گئے ہوئے ہیں تاہم طلبہ کی ایک بڑی تعداد فی الحال ابھی بھی دیوبند میں قیام پذیر ہے جن کی پروگرام میں شرکت یقینی ہے جبکہ مولانا سید ارشد مدنی صاحب کے خطاب کو سماعت کرنے کے لئے دیوبند کے اطراف سے بھی لوگوں کی آمد متوقع ہے، انتظامیہ پروگرام کی ترتیب اور اس کی تیاریوں میں مشغول ہے-

دوسری طرف سوشل میڈیا پر دارالعلوم کا لیٹر پیڈ چرچے میں ہے، سیاسی سماجی کارکنان اور فضلاء دارالعلوم نے انتظامیہ کی جانب سے منعقد پروگرام کی ستائش کرتے ہوئے ہرسال جشن یوم آزادی دھوم دھام سے منانے کی گزارش کی ہے، اس سلسلہ میں دیوبند کے معروف صحافی شاہد معین نے ادارہ کی جانب سے یوم آزادی کے موقع پر منعقد تقریب کا استقبال کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا، ان کے مطابق ہر سال ادارہ میں اس طرح کی تقریبات منعقد کی جانی چاہیے، تاکہ ان فرقہ پرستوں کو جو مدارس کی کردار کشی کرتے ہیں اور ان کو شک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں ان کو کرار جواب دیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ آزادی میں علماء دیوبند کا بنیادی کردار رہا ہے، دارالعلوم دیوبند کے بانیوں میں سے شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے آزادی کے لئے تحریک ریشمی رومال شروع کی تھی۔ ہندوستان کی آزادی میں اکابرین دیوبند کی جدوجہد اور دارالعلوم دیوبند کی جنگِ آزادی میں ناقابل فراموش قربانیوں سے آج کی نوجوان نسل کو خصوصاً سیکولر ہندوؤں کو واقف کروانا بہت ضروری ہے، اور یہ اس وقت اور ضروری ہوجاتا ہے جبکہ فرقہ پرستوں کی جانب سے مسلمانوں کی تاریخ مسخ کی جانے کی پوری کوشش ہو رہی ہو۔

صحافی شاہد معین نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت آج مدارس اسلامیہ کی حب الوطنی کا امتحان لے رہی ہے، پندرہ اگست کے موقع پر مدراس میں یوم آزادی کی تقریب منعقد کرنے اور پرچم کشائی و قومی ترانہ کی ویڈیو گرافی کی ہدایت دی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ جنگ آزادی میں مدارس اسلامیہ اور وہاں کے تعلیم یافتہ علماء کرام کا نمایاں تعاون اور بنیادی کردار رہا ہے، اس کے باوجود مدرسوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانا بدقسمتی اور قابل مذمت ہے۔