نواز شریف کی آمد سے پہلے لاہور میں کریک ڈاؤن

مسلم لیگی ورکروں کے خلاف پولیس کا کریک ڈاون جاری ہے اور جمعرات کی شام تک گرفتار کیے جانے والے مسلم لیگ نون کے کارکنوں، رہنماؤں اور بلدیاتی اداروں کے منتخب نمائندوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔

ملکی سپریم کورٹ سے سزا پانے کے بعد پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی لاہور آمد سے پہلے شہر میں حالات خراب ہو گئے ہیں۔ ضلعی اور صوبائی حکومت کی طرف سے نواز شریف کے استقبال کو روکنے کی کوششوں میں تیزی آگئی ہے۔

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہے۔ شہر کی مختلف سڑکوں کو بند کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں کنٹینرز پہنچائے جا رہے ہیں۔ شہر میں آنے اور جانے والے راستوں پر لوگوں کی چیکنگ کی جارہی ہے۔ شہر میں جمعہ 13 جولائی کے لیے میٹرو اور سپیڈو بس سروسز بند کر دی گئی ہیں۔ پولیس اہلکار مسلم لیگ نون کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار رہے ہیں۔

پنجاب کے سابق وزیراعلٰی اور مسلم لیگ نون کے صدر میاں شہباز شریف نے ماڈل ٹاون میں ہونے والے پارٹی کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرکے 30 دنوں کے لیے نظر بند کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے ان چھاپوں کے دوران خواتین سے بھی بدتمیزی کی ہے۔ پنجاب کے سابق وزیراعلٰی شہباز شریف نے پولیس حکام کو مخاطب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ وقت ایک سا نہیں رہتا اور وہ کان کھول کر سن لیں کہ 25 جولائی کو مسلم لیگ نون ہی جیت رہی ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو پری پول رگنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف عمران خان شہر میں آج رات جلسہ کر رہے ہیں دوسری طرف ہمیں دفعہ 144 کی پابندی کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

شہباز شریف نے واضح کیا کہ خواہ کچھ بھی ہو وہ ہر صورت میں کل نواز شریف کے استقبال کے لیے گھروں سے نکلیں گے اور اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔

یاد رہے پاکستان کی سپریم کورٹ سے سزا پانے کے بعد میاں نواز شریف اور ان کی صاحب زادی مریم نواز پہلی مرتبہ لندن سے براستہ ابوظہبی جمعہ 13 جولائی کو پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے لیے احتساب کے قومی ادارے نیب نے خصوصی انتظامات کر رکھے ہیں۔ شہر میں ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ لاہور کے علامہ اقبال ایئرپورٹ پر لینڈ کرتے ہی انہیں ایک خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اڈیالہ جیل پہنچا دیا جائے گا۔

ادھر نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم زریں نے نواز شریف کے استقبال کے لیے خود ایئرپورٹ جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلم لیگی کارکنوں کو فوراﹰ رہا کیا جائے۔ ان کے بقول ان گرفتاریوں نے انتخابات کی شفافیت کے پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

ادھر پنجاب کے نگران وزیر داخلہ شوکت جاوید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی طرف سے کسی خاص جماعت کے خلاف کاروائیاں نہیں کی جا رہیں بلکہ یہ کارروائیاں الیکشن کمیشن کے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کی جا رہی ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول