ووہان کی لیباریٹری سے نہیں پھیلا کورونا، سبھی امکانات مسترد!

ڈبلیو ایچ او کی ایک ٹیم نے کورونا وائرس کے لیباریٹری سے پھیلنے کے امکانات کو پوری طرح سے مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے چمگادڑ سے انسانوں میں پھیلنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

کورونا وائرس
کورونا وائرس
user

تنویر

پوری دنیا میں تباہی پیدا کرنے والے کورونا وائرس کے تعلق سے ابھی تک یہ ظاہر نہیں ہو سکا ہے کہ اس کا پھیلاؤ آخر کس طرح ہوا۔ کچھ رپورٹس میں اس وائرس کے چمگادڑ سے انسان میں پھیلنے کا دعویٰ کیا گیا، تو کچھ میں چین کے اس مارکیٹ سے اس وائرس کے پھیلاؤ کی بات کہی گئی جہاں طرح طرح کے بچھو، سانپ اور دیگر جانوروں و پرندوں کے گوشت فروخت ہوتے ہیں۔ امریکہ جیسے ممالک نے کووڈ-19 بیماری کے پھیلنے کا سبب ووہان کی لیباریٹری کو بتایا اور الزام عائد کیا کہ کچھ ایسی بات ضرور ہے جسے چین چھپا رہا ہے۔

اس درمیان عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک ٹیم نے شہر ووہان کا دورہ کیا جس نے اپنی ایک رپورٹ پیش کی ہے۔ اس رپورٹ میں مہلک ترین کورونا وائرس کے لیباریٹری سے پھیلنے کے امکانات کو پوری طرح سے مسترد کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے چمگادڑ سے انسانوں میں پھیلنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ ووہان کا دورہ کرنے والی تحقیقاتی ٹیم نے وائرس کی ابتداء سے متعلق دیگر مفروضات پر مزید تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا۔


یہاں قابل ذکر ہے کہ ایک سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے اور کورونا کی تباہی ابھی تک ختم نہیں ہوئی ہے۔ ہندوستان سمیت کئی ممالک میں تو کورونا کی دوسری لہر نے اپنا قہر برپا کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہندوستان میں ایک وقت کورونا کیسز 15 ہزار سے بھی نیچے چلے گئے تھے، لیکن ایک بار پھر اب نئے کیسز کی تعداد بڑھ کر روزانہ 60 ہزار سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ فکر انگیز بات یہ ہے کہ کئی ایسے لوگ جو کورونا ویکسین کی پہلی خوراک لے چکے ہیں، ان کے بھی کورونا سے متاثر ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔