تھائی لینڈ: تاریک غار میں 18دن موت اور بچوں کے درمیان دیوار بن کر کھڑا رہا کوچ

تھائی لینڈ کے تھام لوانگ غار سے باہر آئے بچوں کا کہنا ہے کہ جس وقت غار میں کوئی بچاؤ دستہ نہیں پہنچا تھا اس دوران کوچ ایکاپول چانٹاوانگ نے ہماری زندگی بچانے کے لیے اپنا کھانا تک دے دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

فٹ بال ٹیم کے سبھی اراکین تھائی لینڈ کے تھام لوانگ غار میں 18 دنوں تک پھنسے رہنے کے بعد 10 جولائی کی شام بہ حفاظت یہاں سے نکالے گئے۔ 8 جولائی کو بچاؤ مہم شروع کی گئی تھی جو 10 جولائی کو ختم ہوئی۔ آخری دن کوچ ایکاپول چانٹاوانگ سمیت ٹیم کے 5 اراکین کو باہر نکالا گیا۔ غار سے باہر نکالے گئے بچوں نے بتایا کہ غار میں پھنسنے کے بعد 9 دن تک انھیں کوئی بچانے نہیں پہنچا تھا۔ چاروں جانب پانی اور غار میں تاریکی کے درمیان پھنسے بچوں کے لیے کوچ ایکاپول کسی فرشتے کی مانند تھے۔ کوچ ایکاپول چانٹاوانگ نے نہ صرف سبھی کی زندگی بچائی بلکہ اپنے پاس موجود کا کھانا بھی ان بچوں کو کھلایا تاکہ بھوک کی وجہ سے کمزور ہو کر بچے کہیں حوصلہ نہ ہار جائیں۔

اتنا ہی نہیں، کوچ ایکاپول لگاتار بچوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے اور انھیں مشکل حالات میں خود کو بچائے رکھنے کے طریقے بھی بتاتے رہے۔ کھلاڑیوں نے بتایا کہ جب وہ غار میں گئے تھے تو ان کے پاس کھانے کا سامان زیادہ نہیں تھا۔ ایسے میں کوچ ایکاپول نے باہر نکلنے تک جسم کی توانائی اور طاقت بچائے رکھنے کے لیے کئی طریقے بتائے۔ وہ سبھی کا ہمت بڑھاتے رہے اور خود کے حصے کا کھانا بھی سبھی میں تقسیم کرتے رہے۔ کھلاڑیوں نے مزید کہا کہ کوچ ایکاپول چانٹاوانگ ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ حالات کے مطابق سبھی کو ڈھلنا ہوگا اور اس مشکل وقت میں ہار نہیں ماننی ہوگی۔

قابل ذکر ہے کہ 12 بچوں کی جان بچا کر آج پوری دنیا میں شہرت حاصل کر چکے کوچ ایکاپول چانٹاوانگ اپنی زندگی میں کئی مشکل حالات کا سامنا کر چکے ہیں۔ ایکاپول جب محض 12 سال کے تھے تبھی طاعون کے سبب ان کی فیملی موت کی آغوش میں چلی گئی تھی۔ کوچ ایکاپول کے 7 سال کے بھائی اور والدین کی دردناک موت اس بیماری کی وجہ سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد ایکاپول پوری دنیا سے کٹ گئے تھے۔

بے وقت یتیم ہونے کے بعد ایکاپول ڈپریشن کے شکار ہو گئے۔ اس ڈپریشن سے نکلنے کے لیے انھوں نے بودھ مٹھوں کا سہارا لیا۔ وہ وہاں سادھو بن گئے۔ زبردست ڈپریشن اور مایوسی میں ایکاپول کو بودھ مٹھ نے روحانی طاقت عطا کی جس کے بعد ایکاپول کی زندگی کی گاڑی پھر سے پٹری پر لوٹ سکی۔ اس کے بعد ایکاپول فٹ بال سے جڑے۔ تین سال پہلے تک ایکاپول سادھو کی شکل میں تھے۔ لیکن اب وہ فٹ بال ٹیم کے کوچ ہیں۔

فٹ بال کی یہ نوجوان ٹیم 23 جون سے غار میں پھنسی ہوئی تھی۔ غار میں پھنسے بچوں کی عمر 11 سال سے 16 سال کے درمیان ہے اور ان کے کوچ کی عمر 25 سال ہے۔ یہ سبھی ایک پریکٹس میچ ختم ہونے کے بعد تھام لوانگ نانگ نون غار گھومنے گئے تھے۔ لوگوں کو اس کی جانکاری اس وقت ہوئی جب ان بچوں میں سے ایک کی ماں نے اپنے بیٹے کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کرائی۔

تھائی لینڈ میں بچاؤ مہم کی کامیابی پر برطانیہ کے وزیر اعظم تھیریسا مے نے اظہارِ خوشی کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ ’’تھائی لینڈ کے غار میں پھنسے لوگوں کو بچانے کی مہم کے کامیاب ہونے پر میں بے حد خوش ہوں۔ پوری دنیا کی نظر اس پر تھی، اس بچاؤ کام سے جڑے ہر شخص کو سلام۔‘‘