بندیل کھنڈ: چہار جانب پانی کا بحران، انسانوں اور جانوروں کی جا رہی جان

بندیل کھنڈ کے ہر حصے کا حال ایک جیسا ہے۔ تالاب میدان میں بدل گئے ہیں، کنوئیں خشک ہو چکے ہیں، ہینڈ پمپوں میں پانی کم آ رہا ہے اور کئی مقامات پر تو ٹینکروں سے پانی بھیجنا پڑ رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بندیل کھنڈ میں پانی کا بحران دھیرے دھیرے خطرناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اب تو بات ہینڈ پمپ پر قطار لگانے اور کئی کلو میٹر دور سے پانی لانے سے آگے بڑھ کر موت تک پہنچ گئی ہے۔ پانی کی چاہت میں جہاں انسان کی جان جا رہی ہے، وہیں جنگل میں پانی نہ ہونے سے جانور بھی پیاسے مر رہے ہیں۔

اتر پردیش کے سات اور مدھیہ پردیش کے چھ اضلاع میں پھیلے بندیل کھنڈ کے ہر حصے کا حال تقریباً ایک جیسا ہے۔ تالاب میدان میں تبدیل ہو گئے ہیں، کنوئیں خشک ہو گئے ہیں، ہینڈ پمپوں میں بہت کم پانی بچا ہے۔ کئی مقامات پر ٹینکروں سے پانی بھیجنا پڑ رہا ہے اور جن آبی ذرائع میں تھوڑا بھی پانی بچا ہے، وہاں سینکڑوں کی تعداد میں بھیڑ لگنا عام بات ہے۔

ٹیکم گڑھ ضلع کے ایک کنوئیں پر پانی کے لیے جمع ہوئی بھیڑ کے درمیان ایک خاتون کی جان چلی گئی اور چار زخمی ہو گئے۔ دراصل کھرگا پور تھانہ حلقہ کے گُنا گاؤں میں کنوئیں پر پانی بھرنے کے لیے جمع ہوئی بھیڑ کے وزن کی وجہ سے پاٹ ٹوٹ گیا اور پانچ لوگ کنوئیں جا گرے۔ اس حادثہ میں ایک خاتون کی موت ہو گئی جب کہ چار زخمی ہوئے۔ سبھی کا اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔

پانی کے لیے مار پیٹ، خون بہنا تو عام بات ہو چلی ہے۔ ایک طرف انسانوں میں پانی کو حاصل کرنے کی جدوجہد جاری ہے تو دوسری جانب جنگلوں میں جانور پریشان ہیں۔ جنگلوں کے آبی ذرائع بری طرح خشک ہو چکے ہیں، لہٰذا پانی کی کمی میں جانوروں کے بھی دَم توڑنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ تازہ معاملہ چھتر پور کے بجاور جنگلاتی علاقے کا ہے۔ یہاں کےپاٹن گاؤں میں جمعہ کو ایک تیندوے کی لاش ملی ہے۔ لاش تقریباً دو دن پرانی بتائی جا رہی ہے۔ چھتر پور کے ضلع فوریسٹ افسر انوپم سہائے نے موقع پر پہنچ کر پورے معاملے کی جانچ کی۔ پنّا ٹائیگر ریزرو کے ڈاکٹروں نے لاش کا پوسٹ مارٹم کیا۔ شعبۂ جنگلات کے ایک افسر راگھویندر شریواستو کے مطابق تقریباً 10 سالہ مادہ تیندوے کی موت کی ابتدائی وجہ پیاس کی شدت محسوس ہو رہی ہے، کیونکہ اس کے جسم پر چوٹ وغیرہ کا کوئی نشان نہیں۔ اس معاملے کی جانچ ڈی ایف او خود کر رہے ہیں۔

سماجی کارکن اُتم یادو نے بتایا ہے کہ بندیل کھنڈ میں گزشتہ سال ہوئی کم بارش کے سبب مئی کا مہینہ گزرتے گزرتے زیادہ تر آبی ذرائع خشک ہونے کے قریب ہیں۔ تالابوں میں پانی نہ کے برابر ہے، کنویں خشک ہو گئے ہیں، ہینڈ پمپوں میں بڑی مشقت کے بعد پانی نکل رہا ہے۔ آدمی تو کسی طرح پانی حاصل کر لے رہا ہے لیکن جنگلی جانور اور مویشیوں کی پیاس بجھانا آسان نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ مویشی اور جنگلی جانور پانی کی کمی میں مر رہے ہیں۔

بندیل کھنڈ کے کسی بھی حصے میں کسی بھی وقت جانے پر ہر طرف ایک ہی نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے اور وہ ہے سائیکلوں پر ٹنگے پلاسٹک کے ڈبے۔ آبی ذرائع پر بھیڑ، سڑک پر دوڑتے پانی کے ٹینکر بھی ہر طرف نظر آ جائیں گے۔ عام آدمی کی زندگی پوری طرح پانی کے ارد گرد محدود ہو کر رہ گئی ہے، لیکن حکومت اور انتظامیہ یہی دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس علاقے کے 70 فیصد سے زیادہ ہینڈ پمپوں میں پانی دستیاب ہے۔ حقیقت پر پردہ ڈالنے کی اس کوشش سے لوگوں میں حکومت کے خلاف ناراضگی بڑھ رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next