نوجوان بے روزگار ہیں اس لیے عصمت دری کے واقعات بڑھ رہے: بی جے پی رکن اسمبلی

ریواڑی عصمت دری معاملہ میں بی جے پی کی رکن اسمبلی پریم لتا نے انتہائی متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ عصمت دری کے جو واقعات ہو رہے ہیں اس کی وجہ نوجوانوں کو روزگار نہ ملنا اور مایوس ہونا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہریانہ کے ریواڑی میں 19 سالہ ٹاپر کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے معاملے نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور دوسری طرف بی جے پی لیڈران اس معاملے پر غیر ذمہ دارانہ اور متنازعہ بیان دینے سے باز نہیں آ رہے۔ اس واقعہ پر اُچانا سے بی جے پی رکن اسمبلی پریم لتا نے متنازعہ بیان دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عصمت دری جیسے واقعات کے لیے فرسٹریٹیڈ بچے ذمہ دار ہیں۔ خاص طور سے ایسے واردات میں وہ لوگ زیادہ ملوث پائے جا رہے ہیں جنھیں ملازمتیں نہیں ملی ہیں اور انھیں اپنا مستقبل روشن نظر نہیں آ رہا۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ اجتماعی عصمت دری معاملے میں پولس ابھی تک ملزمین کو گرفتار نہیں کر پائی ہے۔ حالانکہ تین ملزمین کی تصویر پولس نے ضرور جاری کر دی ہے لیکن وہ ابھی گرفت سے باہر ہیں۔ اس معاملے میں ہریانہ پولس نے ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے تاکہ ملزمین کی گرفتاری عمل میں آ سکے اور بچی کو انصاف مل سکے۔

واضح رہے کہ دو دن قبل کنینا بس اڈے سے طالبہ کا اغوا کر اس کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ طالبہ کا اغوا اس وقت کیا گیا تھا جب وہ کوچنگ سے گھر کی طرف لوٹ رہی تھی۔ صدر جمہوریہ سے اعزاز یافتہ اسکول ٹاپر اس لڑکی کی والدہ نے فوری طور پر کوئی کارروائی نہ ہونے کے بعد پولس محکمہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی بیٹی اس حادثہ کے بعد صدمے میں ہے اور ملزمین کھلے عام گھوم رہے ہیں۔

next