کٹھوعہ عصمت دری: بی جے پی کے مستعفی وزیر کا پھرملزمان کے حق میں مارچ

لال سنگھ نے کہا کہ ’میں نے اس وجہ سے اپنا استعفیٰ نہیں دیا کہ میں خاطی ہوں۔ وزیراعظم مودی کو پریشانی نہ اٹھانی پڑے اور ملک میں دنگے نہ ہوں، اسی لئے استعفیٰ دیا۔

By یو این آئی

جموں: آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کی وحشیانہ عصمت دری اور قتل کے ملزمان کے حق میں کھڑے ہونے کی وجہ سے بحیثیت وزیر مستعفی ہونے والے بی جے پی لیڈر چودھری لال سنگھ نے باغیانہ اقدامات اٹھانے شروع کردیئے ہیں۔ انہوں نے آصفہ کیس کی سی بی آئی انکوائری کے مطالبے کو لےکر آج یعنی منگل کے روز جموں میں اپنی سرکاری رہائش گاہ سے ضلع کٹھوعہ تک ریلی نکالی جس کے دوران انہوں نے متعدد مقامات بشمول ستواری چوک جموں، سانبہ اور کٹھوعہ میں اپنے حامیوں سے خطاب کیا۔ لال سنگھ کی ریلی میں درجنوں چھوٹی بڑی گاڑیاں شامل تھیں جن پر کٹھوعہ واقعہ کی سی بی آئی انکوائری سے متعلق بینرس لگے ہوئے تھے۔ کچھ ایک گاڑیوں پر لاؤڈ اسپیکر بھی نصب کئے ہوئے تھے۔

Shamed BJP minister Lal Singh begins march to demand CBI probe into Kathua rape-murder case Today MLA Lal Singh demand CBI enquiry and open war on CM @MehboobaMufti at samba...

Posted by Kashmir Today on Tuesday, April 17, 2018

مستعفی وزیر لال سنگھ نے ریلی کے دوران نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’چاہے کچھ بھی ہو ، سی بی آئی انکوائری کراکے ہی رہوں گا۔‘‘ انہوں نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ محبوبہ بزرگ علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کے ایجنڈے پر کام کررہی ہیں۔ انہوں نے سانبہ میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی گیلانی کے ایجنڈے پر کام کررہی ہیں۔ شروع میں ہی گیلانی نے کہہ دیا تھا کہ سی بی آئی انکوائری نہیں ہوگی۔ اس بیان کو دیکھتے ہوئے سی بی آئی انکوائری نہیں کی گئی۔‘‘

بتادیں کہ آصفہ کیس کی وجہ سے پی ڈی پی -بی جے پی مخلوط حکومت میں شامل دو بی جے پی کے وزراء چندر پرکاش گنگا اور چودھری لال سنگھ نے گذشتہ روز اپنا استعفیٰ دے دیا تھا ۔ بی جے پی کے اِن دو وزراء نے یکم مارچ کو ضلع کٹھوعہ میں آصفہ عصمت دری و قتل کیس کے ملزمان کے حق میں ’ہندو ایکتا منچ ‘ کے بینر تلے منعقد ہونے والے ایک جلسہ میں شرکت کرکے سول و پولس انتظامیہ کے عہدیداران کی گرفتاریاں عمل میں نہ لانے کی ہدایات دی تھیں۔

کٹھوعہ میں جلسہ سے خطاب کے دوران ان وزراء نے ایک مخصوص کیمونٹی کے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ کیس کو سی بی آئی کے حوالے کیا جائے گا۔ تاہم دونوں مستعفی وزراء کا کہنا ہے کہ انہیں پارٹی کی طرف سے وہاں جانے کے لئے کہا گیا تھا۔

لال سنگھ نے اگرچہ منگل کو اپنی ریلی کے دوران ہیرا نگر کے کوٹہ میں بھی اپنے حامیوں سے خطاب کیا، تاہم انہوں نے اس جگہ پر جانے سے پرہیز کیا جہاں لوگ ’ہندو ایکتامنچ ‘ کے بینر تلے دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ کٹھوعہ مارچ شروع کرنے سے قبل لال سنگھ نے اپنی سرکاری رہائش گاہ کے باہر موجود نامہ نگاروں کو بتایا کہ ریاستی حکومت کٹھوعہ معاملے کی سی بی آئی انکوائری نہ کراکے تنازعے کو بڑھا رہی ہے۔

لال سنگھ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو پریشانی سے بچانے اور ملک میں فسادات ہونے سے روکنے کے لئے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ انہوں نے کہا ’میں نے اس وجہ سے اپنا استعفیٰ نہیں دیا کہ میں خاطی ہوں۔

ملک میں جو تاثر پیدا ہوا تھا وہ اچھا نہیں تھا۔ وزیراعظم مودی کو پریشانی نہ اٹھانی پڑے اور ملک میں دنگے نہ ہوں، اسی لئے استعفیٰ دیا۔ میں آج اپنے گھرجارہا ہوں۔ راستے میں لوگ ملیں گے تو ان سے ملاقات کروں گا‘۔ لال سنگھ نے کہا کہ وہ ہرحال میں اس واقعہ کی سی بی آئی انکوائری کرائیں گے۔