کووڈ کے خلاف 2022 میں مل سکتی ہے خوشخبری، نئی دواؤں کو لے کر ڈبلیو ایچ او پُرامید

یوروپی دوا ایجنسی نے رسمی منظوری سے پہلے دو کووڈ-19 اینٹی وائرل گولیوں، فائزر کی پیکسلووڈ اور مرک کی مولنوپیراویر کے استعمال کی سفارش کی ہے۔

ڈبلیو ایچ او، تصویر آئی اے این ایس
ڈبلیو ایچ او، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے یوروپ کے علاقائی ڈائریکٹر ہنس کلوز نے کہا ہے کہ 2022 میں کووڈ-19 کے خلاف نئی دواؤں کے آنے سے سنگین حالت کا سامنا کر رہے کورونا وائرس کے مریضوں کے بچنے کا امکان کافی بڑھ جائے گا۔ یوروپی دوا ایجنسی نے رسمی منظوری سے قبل دو کووڈ-19 اینٹی وائرل گولیوں فائزر کی پیکسلووڈ اور مرک کی مولنوپیراوِر کے استعمال کی سفارش کی ہے۔

کلوز نے تاس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’’مجھے نئی اینٹی وائرل دواؤں سے بھی حوصلہ ملا ہے، جن کی 2022 میں بازار میں آنے کا امکان ہے، جو سنگین کووڈ-19 کے ساتھ اسپتال میں داخل مریضوں کے زندہ رہنے کے امکان کو بہت بڑھا دے گا۔‘‘ پیکسلووڈ اور مولنوپیراوِر دونوں کی طرف سے زیادہ جوکھم والے مریضوں میں کووڈ-19 سے اسپتال میں داخل ہونے یا مرنے کے امکانات کو بالترتیب 89 فیصد اور 30 فیصد کم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔


کلوز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئندہ نسل (نیکسٹ جنریشن) کے ٹیکے نئے ابھرتے ویریئنٹس کے خلاف زیادہ اثردار ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں مستقبل کی پیشین گوئی نہیں کر سکتا۔ لیکن یہ دھیان دیا جانا چاہیے کہ موجودہ ٹیکے کووڈ-19 ٹیکوں کی پہلی نسل ہیں۔ مستقبل کے ٹیکوں کو نئے یا ابھرتے ہوئے ویریئنٹس کے لحاظ سے بدل دیا جائے گا اور موزوں کیا جائے گا، جس سے وہ زیادہ اثردار ہو جائیں گے۔‘‘

فائزر کے مطابق تجربہ گاہوں میں ٹیسٹنگ سے پتہ چلتا ہے کہ پیکسلووڈ دوا تیزی سے پھیلے والے اومیکرون ویریئنٹ کے خلاف کام کرنا جاری رکھتی ہے۔ سی ای او البرٹ بورلا نے اندازہ لگایا کہ گولیاں لینے والے ہر ایک لاکھ کووڈ مریضوں میں دیکھا گیا کہ گولیاں 1200 اموات اور 6000 اسپتال میں داخل ہونے کے امکان کو ٹال سکتی ہیں۔


امریکی فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن نے ایک بیان میں کہا کہ مولنوپیراوِر کے لیے اتھارٹی 18 سال سے زیادہ عمر کے بالغوں تک محدود ہے، جنھیں سنگین بیماری کا زیادہ جوکھم ہے اور جن کے لیے متبادل ایف ڈی اے-منظور علاج متبادل آسان یا طبی طور سے مناسب نہیں ہیں۔ یہ حاملہ خواتین کے استعمال کے لیے بھی منظور نہیں ہے۔

کمپنیوں کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ فائزر اور مرک دونوں کی گولیاں کووڈ ہونے کے 5-3 دنوں کے اندر جلدی لی جانی چاہیے اور پانچ دنوں کے لیے دن میں کئی بار کئی گولیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔