مفرور میہل چوکسی کو بڑا جھٹکا، بیلجیم کورٹ نے خارج کی ضمانت عرضی
بلیجیم کی عدالت نے سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کے دلائل سے اتفاق کیا کہ اگر چوکسی جیل سے باہر آیا تو پھر کسی اور ملک بھاگ سکتا ہے، ایسا وہ پہلے بھی کر چکا ہے۔

پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) سے تقریباً 63000 کرورڑ روپے کی دھوکہ دہی کے معاملے میں مفرور مطلوب ہیرا کاروباری میہل چوکسی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ دراصل بیلجیم کی اپیل عدالت نے ان کی ضمانت عرضی کو ایک بار پھر خارج کر دیا ہے۔ افسران کے مطابق میہل چوکسی نے 22 اگست کو ایک نئی ضمانت عرضی داخل کی تھی۔ اس نے گھر پر نظر بند رکھنے کا متبادل بھی پیش کیا تھا۔ لیکن عدالت نے اس دلیل کو خارج کر دیا اور واضح طور پر کہا کہ اسے ضمانت پر رہا کرنا جوکھم بھرا ہوگا۔
اس سے قبل بھی بلیجیم کی عدالت اس کی پیشگی ضمانت کی عرضی کو مسترد کر چکی ہے۔ عدالت نے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے دلائل سے اتفاق کیا کہ اگر چوکسی جیل سے باہر آیا تو پھر کسی اور ملک بھاگ سکتا ہے، ایسا وہ پہلے بھی کر چکا ہے۔ سی بی آئی نے بیلجیم کے استغاثہ کو تفصیلی طور پر بتایا کہ چوکسی مسلسل قانونی عمل سے بچتا رہا ہے۔ وہ کئی ممالک کی مختلف عدالتوں کے دائرہ اختیار سے راہ فرار اختیار کر کے گرفتاری سے بچنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اسی وجہ سے ہندوستانی ایجنسیوں نے بیلجیم عدالت سے اس کو ضمانت نہ دینے کی سفارش کی تھی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اپریل 2025 سے سی بی آئی کی حوالگی کی درخواست کی بنیاد پر چوکسی کو بیلجیم میں گرفتار کیا گیا تھا۔
افسران کے مطابق چوکسی کی حوالگی معاملہ میں تفصیلی بحث ستمبر کے نصف میں بیلجیم کی ایک عدالت میں ہوگی۔ سی بی آئی بیلجیم استغاثہ کی مدد کر رہی ہے، تاکہ ہندوستان میں اسے واپس لانے کے لیے مضبوط قانونی بنیاد تیار کی جا سکے۔ 66 سالہ میہل چوکسی گیتانجلی گروپ کا مالک ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اپنے بھانجے نیرو مودی کے ساتھ مل کر پی این بی کے ممبئی بریڈی ہاؤس برانچ سے 13000 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کی ہے۔ یہ فرضی حلف نامہ اور بینک کے افسران کی ملی بھگت سے کیا گیا مبینہ گھوٹالہ ہے، جسے ہندوستان کا سب سے بڑا بینکنگ گھوٹالہ کہا جاتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ میہل چوکسی طویل عرصے سے ہندوستانی ایجنسیوں سے بچتا پھر رہا ہے۔ وہ پہلے اینٹگوا بھاگ گیا تھا اور بعد میں مختلف قانونی پیچیدگیوں کے ذریعہ حوالگی سے بچتا رہا۔ ایسے میں بیلجیم کی عدالت کا یہ فیصلہ ہندوستان کے لیے ایک راحت کی خبر ہے۔ اس سے اس بات کا واضح اشارہ ملتا ہے کہ اس کی حوالگی کی راہ کچھ آسان ہو سکتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔