ممبئی میں ’بیسٹ‘ کی ہڑتال لگاتار پانچویں دن جاری، عوام بے حال

کانگریس ترجمان کا کہنا ہے کہ بی جے پی-شیو سینا کی اندرونی لڑائی کا خمیازہ ممبئی باشندوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ حکومت چاہے تو ہڑتال ختم کرا سکتی ہے۔ دراصل بی جے پی-شیو سینا کو عوام کی کوئی فکر ہی نہیں۔

قومی آوازبیورو

ممبئی میں ’بیسٹ‘ یعنی بریہن ممبئی الیکٹریسٹی سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ کی ہڑتال لگاتار پانچویں دن بھی جاری ہے۔ اس غیر معینہ ہڑتال نے ممبئی کے باشندوں کے لیے پریشانیاں کھڑی کر دی ہیں، لیکن ریاست کی بی جے پی حکومت اس کا حل نکالنے میں اب تک سرگرم نظر نہیں آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس صرف میڈیا میں بیان دیتے ہوئے نظر آئے ہیں اور شیو سینا لیڈران نے گزشتہ جمعرات کو ایک میٹنگ کی تھی لیکن کوئی مثبت نتیجہ نکل کر سامنے نہیں آیا۔ افسوسناک یہ ہے کہ ہڑتال کرنے والے ملازمین کی پریشانیاں دور کرنے کی جگہ انتظامیہ انھیں نوٹس دینے اور ’میسما‘ لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ اس کارروائی سے پریشان ملازمین کے اہل خانہ بھی سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ بڑی تعداد میں خواتین نے 11 جنوری کو ملنڈ ڈپو میں مورچہ نکالا اور 12 جنوری کو بھی مردوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں خواتین بھی سڑکوں پر نظر آ رہی ہیں۔

دراصل میڈیا ذرائع کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 358 ملازمین پر میسما لگا دیا گیا ہے اور 333 کو حکم نہ ماننے سے متعلق نوٹس دیا گیا ہے۔ اس درمیان محکمہ بجلی کے ملازمین بھی ہڑتال میں شامل ہونے والے ہیں جس سے جنوبی ممبئی میں بجلی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر محکمہ بجلی کے ملازمین کا ساتھ ’بیسٹ‘ کو ملا تو مسئلہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

جہاں تک وزیر اعلیٰ فڑنویس کی بات ہے تو انھوں نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’’خسارہ میں چل رہی بیسٹ کو حکومت سے اقتصادی مدد لینے کی نوبت نہیں آئے گی کیونکہ ممبئی مہانگر پالیکا خود اس مسئلہ کا حل نکالنے کی اہل ہے، لیکن بی ایم سی کی جانب سے فی الحال کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ حکومت یقیناً ہی اس معاملے میں مداخلت کرے گی۔‘‘ لیکن یہ مداخلت کس طرح ہوگی، اس کا ابھی تک کوئی خاکہ پیش نہیں کیا گیا ہے۔ کانگریس ترجمان سچن ساونت نے مہاراشٹر حکومت کی بے حسی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بی جے پی-شیو سینا کی اندرونی لڑائی کا خمیازہ ممبئی باشندوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ حکومت چاہے تو اس ہڑتال کو ختم کرا سکتی ہے۔ دراصل بی جے پی-شیو سینا کو عوام کی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔‘‘