اجودھیا معاملہ کے مدعی اقبال انصاری کو دھمکی دینے والا سوریہ پرکاش گرفتار

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم مسافر خانہ کوتوالی کے تحت دادرا گاؤں کا رہنے والا ہے۔ اس نے اجودھیا معاملہ کے مسلم فریق اقبال انصاری کے گھر پر رجسٹرڈ پوسٹ کے ذریعہ چار صفحات پر مشتمل خط بھیجا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

امیٹھی: اجودھیا میں متنازعہ رام جنم بھومی معاملے میں مسلم فریق اقبال انصاری کے خاندان کو دھمکی دینے والے ملزم سوریہ پرکاش کو امیٹھی پولس نے گرفتار کر کے فیض آباد پولیس کے حوالے کردیا ہے۔ حراست میں لئے گئےملزم پر اجودھیا معاملے میں مسلم فریق اقبال انصاری کو ایک خط لکھ کر دھمکی دینے کا الزام ہے۔ اس نے خط میں لکھا تھا کہ اگر ان کا خاندان اس معاملے کو نہیں چھوڑتا ہے تو انہیں اس کے لئے سنگین نتائج جھیلنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ خط میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ’’انہیں ملک سے باہر نکال کر پھینک دیا جائے گا۔‘‘

پولیس ذرائع نے جمعرات کو یہاں بتایا کہ ملزم مسافر خانہ کوتوالی کے تحت دادرا گاؤں کا رہنے والا ہے۔ مسلم فریق اقبال انصاری کے گھر پر بدھ کو رجسٹرڈ پوسٹ کے ذریعہ چار صفحات پر مشتمل خط موصول ہوا تھا۔ خط میں انہیں دھمکی دیتے ہویے اجودھیا کیس سے پیچھے ہٹنے کے لیے کہا گیا ہے۔ یہ بھی لکھا ہے کہ اگر وہ اس مقدمے کو نہیں چھوڑتے ہیں تو انہیں ملک سے باہر نکال کر پھینک دیا جائے گا۔ اتنا ہی نہیں انہیں اس کے لیے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے بتایا کہ خط بھیجنے والے شخص کی شناخت سوریہ پرکاش سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔وہ امیٹھی کے مسافر خانہ کوتوالی کے تحت دادرا گاؤں کا رہنے والا ہے۔ ڈپٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ بی سی دوبے نے بتایا کہ فیض آباد پولیس اسے گرفتار کرنے کے لیے یہاں آئی تھی جہاں مسافر خانہ پولیس کی مشترکہ ٹیم کے ساتھ چھاپہ ماری کرکے ملزم کو اس کے گاؤں سے گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس پوچھ گچھ میں سوریہ پرکاش سنگھ(50) نے بتایا کہ سال 1992 میں رام جنم بھومی تنازعہ میں وہ دو دن کے لیے جیل جا چکا ہے۔

ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ سال 1993 تک وشو ہندو پریشد کا مسافر خانہ میں بلاک سطح کا ذمہ دار رہ چکا ہے اور اب اس پر تنظیم کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ صرف وہ اس تنظیم کا رکن ہے۔ اس نے خط بھیجنے کی بات کو قبول کیا ہےجس کی بنیاد پر پولیس اس کو اپنے ساتھ فیض آبادلے گئی ہے۔

Published: 25 Oct 2018, 8:10 PM
next