آسٹریلیا نے ہندوستان سمیت 4 ممالک کو ’ہائی رسک‘ والے زمرے میں ڈالا، طلبہ کو مشکلات کا سامنا!

فِل ہنی ووڈ نے کہا کہ ’’جن طلبہ کو دیگر 3 ممالک (امریکہ، برطانیہ اور کناڈا) میں داخلہ نہیں مل پایا ہے وہ تیزی سے آسٹریلیا میں درخواست دے رہے ہیں، کئی معاملوں میں ہم نے فرضی دستاویزات دیکھا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ہندوستان-آسٹریلیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

آسٹریلیا نے رواں ماہ 8 جنوری سے نیپال، بنگلہ دیش اور بھوٹان کے ساتھ ساتھ اب ہندوستان سے آنے والے طلبہ کی ویزا درخواستوں کی جانچ کے عمل کو کافی سخت کر دیا ہے۔ ان چاروں ممالک کو اب ہائی رِسک زمرے میں ڈال دیا ہے، جس کی وجہ سے ویزہ ملنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ آسٹریلیائی حکومت نے سمپلیفائڈ اسٹوڈنٹ ویزا فریم ورک (ایس ایس وی ایف) کے تحت ان ممالک کو ایویڈنس لیول-2 سے ہٹا کر ایویڈنس لیول-3 میں ڈال دیا ہے۔

واضح رہے کہ جب کسی ملک کو ’ہائی رِسک‘ پر رکھا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایسے ممالک کے شہریوں کے لیے سخت جانچ اور زیادہ دستاویزی ضروریات نافذ ہوں گی۔ آسٹریلیا میں ویزا کے لیے درخواست کرنے والے تمام طلبہ کی اب گہری تفتیش کی جائے گی۔ ان سے اضافی دستاویزات مانگے جا سکتے ہیں اور ان کے پس منظر کی بھی سخت جانچ کی جا سکتی ہے۔ بینک اسٹیٹمنٹ کا مینوئل ویریفکیشن کیا جائے گا۔ ’دی آسٹریلیا ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق انگریزی زبان کو لے کر اضافی ثبوت طلب کیے جا سکتے ہیں اور افسران کو اداروں سے رابطہ کرنے کا اختیار ہوگا۔


حالانکہ آسٹریلوی انتظامیہ نے ہندوستان کو اس زمرے میں رکھنے کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی ہے، لیکن یہ قدم ہندوستان میں فرضی ڈگری ہولڈرز کے سامنے آنے کی خبروں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ آسٹریلیا کے 650000 بین الاقوامی طلبہ میں سے تقریباً 140000 طلبہ صرف ہندوستان سے ہیں۔ یہ چاروں ممالک 2025 میں آسٹریلیا میں ہونے والے مجموعی داخلے کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ طلبہ کے لیے بیرون ممالک تعلیم حاصل کرنے کے لحاظ سے 4 اہم ممالک میں سے آسٹریلیا ہی واحد آپشن بچا ہے، کیونکہ امریکہ، برطانیہ اور کناڈا جیسے ممالک غیر ملکی طلبہ کے لیے اپنے دروازے بند کر رہے ہیں۔ انٹرنیشنل ایجوکیشن ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فِل ہنی ووڈ نے کہا کہ ’’جن طلبہ کو دیگر 3 ممالک میں داخلہ نہیں مل پایا ہے وہ تیزی سے آسٹریلیا میں درخواست دے رہے ہیں اور کئی معاملوں میں ہم نے فرضی مالی اور تعلیمی دستاویزات میں اضافہ دیکھا ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔