نرملا سیتارمن سے سوال، بی جے پی یووا مورچہ کنوینشن کے لئے فوجی زمین کیوں دی؟

وزارت دفاع نے بی جے پی یووا مورچہ کو کنوینشن کے لئے فوجی زمین دی ہے، کارگل جنگ لڑنے والے میجر ڈی پی سنگھ نے وزیر دفاع سے اس طرح کے فیصلوں کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا 
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بی جے پی یووا مورچہ کو قومی کنوینشن کے انعقاد کے لئے وزارت دفاع نے فوج کی زمین دی ہے اور وزارت دفاع کےاس فیصلے کی زبردست تنقید ہو رہی ہے۔ ایک ویب سائٹ پر شائع خبر کے مطابق وزارت دفاع نے حیدرآباد کے سکندرآباد کینٹ کے بسون پولو گراؤنڈ پر بی جے پی یووا مورچہ کو قومی کنوینشن کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہ کنوینشن 23 سے 28 اکتوبر کے درمیان ہوگا۔ فوج کے کئی افسران نے اس پر اعتراض درج کیا ہے۔

کارگل جنگ میں لڑنے والے میجر ڈی پی سنگھ نے وزیر دفاع نرملا سیتارمن سے اس فیصلے کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’’ایک جانب عام لوگوں کی بدعنوانیوں اور غلط استعمال کی وجہ سے برباد ہونے والی چیزوں کو سدھارنے کے لئے فوج کا استعمال ہوتا ہے اور دوسری جانب سلامت رکھی گئی چیزوں کو ان کے (عام لوگوں) لئے کھولا جا رہا ہے‘‘۔

میجر ڈی پی سنگھ کے ٹوئٹ کو کانگریس کے سینئر رہنما ششی تھرور نے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہوئے حکومت کے اس اقدام کو شرمنانک بتایا۔ تھرور نے پوچھا ’’ہندوستانی فوج کب سے بی جے پی کی اتحادی بن گئی ہے؟‘‘۔

میجر ڈی پی سنگھ کے علاوہ کئی فوجی افسران نے بھی اس اقدام کو غلط بتایا اور نرملا سیتارمن کو ٹیگ کرتے ہوئے ان سے جواب مانگا ہے۔ سابق فوجی روہت اگروال نے لکھا ہے ’’کینٹ میں سیاسی ریلی کرنا غلط ہے۔ کینٹ کو کھولنے کی بات اب سمجھ میں آ رہی ہے اور ہمارے افسران ایسے ناکارہ ہیں جو کوئی اسٹینڈ نہیں لے پا رہے ہیں‘‘۔

ابھی تک وزیر دفاع یا وزارت دفاع کی جانب سے اس تعلق سے کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 16 Oct 2018, 8:01 AM