پاکستان اور سعودی عرب پھرقریب آرہے ہیں؟

سعودی عرب نواز شریف کے دورِ حکومت میں اسلام آباد سے ناراض نظر آیا لیکن حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بار پھر خوشگواری دکھائی دے رہی ہے۔

کینیڈا کے ساتھ کشیدگی کے مسئلے پر پاکستان کی طرف سے ریاض کی حمایت اور اسلامی ترقیاتی بینک کی طرف سے پاکستان کے لیے چار بلین ڈالرز کے قرضے کے اعلان کے بعد پاکستان کے کئی حلقوں میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے پھر سے قریب آرہے ہیں۔ تاہم کئی ناقدین اس قربت کے ممکنہ نتائج پر بھی غور و فکر کر رہے ہیں۔ کچھ اس قربت کو پاکستان کے لیے بہتر سمجھتے ہیں جب کہ کچھ کے خیال میں قدامت پرست بادشاہت یہ سب کچھ اپنے مفاد کے لیے کر رہی ہے۔

تجزیہ نگار ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب کے خیال میں ان تعلقات میں بہتری کی ایک وجہ عمران خان کی شخصیت بھی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے امجد شعیب نے کہا، ’’دنیا کو معلوم تھا کہ نواز شریف اور ان کی حکمران جماعت چاہے کتنے ہی دعوے کر لے لیکن وہ قابلِ بھروسہ نہیں ہے۔ عمران خان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے۔ اس لیے سعودی عرب سمیت دنیا کے کئی ممالک پاکستان سے بہتر تعلقات کرنے کے خواہاں ہیں، جو ملک کے لیے بہت اچھی بات ہے۔‘‘

ان کے خیال میں نواز شریف نے سعودی عرب کو دو بار دھوکا دیا جس کی وجہ سے اُس کے دورِ حکومت میں حالات نا خوشگوار ہوئے۔ امجد شعیب کے مطابق ’’پہلے تو نواز شریف نے مشرف کے دور میں ہونے والے معاہدے کی پاسداری نہیں کی، جس پر ریاض ناراض ہوا اور پھر یمن کے مسئلے پر نواز شریف نے ذاتی حیثیت میں سعودی عرب کو یقین دہانی کرائی کہ فوج یمن بھیجی جائے گی۔ تاہم پارلیمنٹ نے فوج بھیجنے سے صاف انکا ر کر دیا۔ نواز شریف کو پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ایسا وعدہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اب یہ خوش آئند بات ہے کہ ہمارے سعودی عرب سے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان یمن میں فوج نہیں بھیجے گا۔ پاکستان نے ریاض کو مشورہ دیا تھا کہ یمن کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ اب سعودی عرب کو بھی اس غلطی کا احساس ہو رہا ہے اور وہ بھی وہاں سے نکلنا چاہتا ہے کیوں کہ یمن سے کبھی کوئی فتح حاصل کر کے نہیں نکلا۔‘‘

نیشنل یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد کے ادارہ برائے عالمی امن و استحکام سے وابستہ ڈاکٹر بکرنجم الدین کے خیال میں سعودی عرب تعلقات میں بہتری اپنے مفاد میں لا رہا ہے۔ ڈاکٹر نجم الدین کے مطابق ’’محمد بن سلمان اپنے حمایتی ڈھونڈ رہے ہیں۔ ریاض کو معلوم ہے کہ اسلام آباد کے انقرہ اور تہران سے بھی اچھے تعلقات ہیں۔ تو پاکستان کی امداد کر کے وہ یہ امید کریں گے کہ اسلام آباد ان کی حمایت کرے۔ میرے خیال میں بین الاقوامی فورموں پر اگر ریاض کے خلاف کوئی ایکشن ہوتا ہے یا کسی مسئلے پر سعودی حکومت کی مذمت کی جاتی ہے، تو ایسی صورت میں پاکستان یا سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا یا پھر خاموش رہے گا لیکن کسی بین الاقوامی سطح پر سعودی مخالف اقدام کی حمایت نہیں کرے گا۔‘‘

ناقدین کے خیال میں اسلامی ترقیاتی بینک نے چار بلین ڈالرز کے قرضے کا اعلان سعودی اشارے پر کیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بین الاقوامی یا علاقائی مالیاتی اداروں کو جو ملک جتنا زیادہ فنڈز فراہم کرتا ہے، توایسے اداروں پر پھراُس ہی ملک کا زیادہ اثر و رسوخ بھی ہوتا ہے۔ جیسا کہ امریکا اور مغربی ممالک آئی ایم ایف کو زیادہ فنڈنگ دیتے ہیں اور ان کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس مالیاتی ادارے کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکا نے حال ہی میں آئی ایم ایف کو خبردار بھی کیا کہ وہ پاکستان کی مدد کرنے سے باز رہے۔

تاہم معیشت دان ڈاکڑ اشفاق حسن کے خیال میں سعودی عرب اسلامی ترقیاتی بینک کے معاملے میں ایسا کوئی اثر و رسوخ استعما ل نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا، ’’میرے خیال میں سعودی عرب کے کہنے پر یہ رقم نہیں دی جا رہی بلکہ یہ ایک عام طریقہ ہے جو ایشین ڈیولپمنٹ بینک، ورلڈ بینک اور دوسرے بینک بھی اپناتے ہیں کہ ہم نے اتنا پیسہ آپ کو تین سال کے لیے دے دیا ہے۔ تو اسلامی ترقیاتی بینک نے یہ پیسہ Commodity Financing کے لیے دیا ہے۔ میرے خیال میں اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم اس قرضے سے کوئی بہت بڑی معاشی مشکل حل نہیں ہوگی۔‘‘

سب سے زیادہ مقبول