رومانیہ میں حکومت مخالف احتجاج جاری

رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ میں حکومت مخالف مظاہرے میں سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کے باوجود ہزاروں افراد نے ہفتے کے روز بھی احتجاج جاری رکھا۔

رومانیہ میں حکومت مخالف مظاہرہ دوسری شب بھی جاری رہا، جس میں ہزاروں افراد سڑکوں پر سراپا احتجاج تھے۔ بخارسٹ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ شب کا مظاہرہ نسبتاﹰ پر امن رہا جبکہ ایک روز قبل پولیس کی جانب سے پر تشدد کارروائیوں میں 445 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس نے مزید تیس مشتعل افراد کو گرفتار بھی کیا تھا۔ زخمیوں میں تقریباً دو درجن سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

بارسلونا میں اسپین کے اتحاد کی خاطر مظاہرے

’کرپشن نہیں انصاف چاہیے‘

بخارسٹ کی سڑکوں پر مظاہرین نعرے بازی کرتے ہوئے ملکی سوشلسٹ حکومت سے استعفٰی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مظاہرے میں شریک چونسٹھ سالہ فلوریا نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ انہوں نے جمعے کے روز مظاہرین پر پولیس کی جانب سے کیے گئے تشدد کے مناظر ٹیلی وژن پر دیکھنے کے بعد اس احتجاج میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا۔ فلوریا نے مزید بتایا کہ ان کے بچے اسپین میں مقیم ہیں اور رومانیہ واپس آنے چاہتے ہیں لیکن ’یہ فی الوقت ممکن نہیں، کیونکہ موجودہ سیاستدان عوام کے بجائے صرف اپنے مفاد کا سوچتے ہیں۔‘

رومانیہ کے وزیر اعظم پر کرپشن کے الزام میں فرد جرم عائد

دوسری جانب رومانیہ کے وزیر داخلہ کارمین ڈان نے پولیس اہلکاروں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے، ’’پولیس کی جانب سے پرامن مظاہرین کو نہیں روکا گیا بلکہ یہ کارروائی ریاستی عہدیداران پر حملہ کرنے والے مشتعل افراد کے خلاف کی گئی تھی۔‘‘

آسٹریا کے چانسلر سباستیان کُرس نے بخارسٹ پولیس کی جانب سے صحافیوں اور مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ رومانیہ کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں کا انتظام جمعہ نو اگست کی سہ پہر کیا گیا تھا اور اس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔

سب سے زیادہ مقبول