اے ایم یو پر ہندو تنظیموں کے حملہ کی عدالتی جانچ کا مطالبہ

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلباء کا احتجاج جاری ہے اور اب ان طلباء کے حق میں اور پورے معاملے ک عدالتی جانچ کے مطالبہ کو لے کر اے ایم یو اولڈ بوائز بھی کل دہلی کی سڑکوں پر اترے۔

اے ایم یو اولڈ بوائز کے ارکان منڈی ہاؤس پر احتجاج کرتے ہوئے 
اے ایم یو اولڈ بوائز کے ارکان منڈی ہاؤس پر احتجاج کرتے ہوئے
user

قومی آوازبیورو

طلباء پر پولس ظلم اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر سخت گیر ہندو عناصر  کے حملہ کے خلاف عدالتی جانچ کے مطالبہ کو لے کر اتوار کی شام دہلی کے منڈی ہاؤس پر علی گڑھ کے سابق طلباء نے احتجاج کیا۔ زبردست آندھی اور طوفان بھی سابق طلباء کو اس احتجاج سے نہیں روک پایا اور بڑی تعداد میں ان سابق طلباء نے اپنا احتجاج درج کرایا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائزایسوسی ایشن دہلی  کے زیر اہتمام اس احتجاج میں لوگ ہاتھوں میں پلے کارڈ لئے ہوئے تھے جن میں عدالتی جانچ کے مطالبہ کے ساتھ ساتھ فاشزم کے خلاف نعرے لکھے ہوئے تھے۔ تنظیم کے صدر ارشاد احمد نے ’قومی آواز‘ سے کہا ’’ہمیں افسوس ہے کہ جو مدا نہیں ہے ہمیں اس کے لئے اس موسم میں یہاں جمع ہونا پڑ رہا ہے۔ یہ سراسر سیاسی مدا ہے اور اس کوغیر ضروری طول دیا جا رہا ہے ‘‘۔

موجود لوگوں میں اس معاملہ کو لے کر جو غصہ تھا اس سے ایک بات واضح تھی کہ اے ایم یو کے طلباء دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں وہ اس مدے کو لے کر پریشان ہیں۔ اے ایم یو کے سابق  طلب علم اور دہلی کے سینئر وکیل فاروقی  کا کہنا تھا ’’جناح کی تصویر پارلیمنٹ میں لگی ہوئی ہے، سابرمتی آشرم میں لگی ہوئی ہے اور ممبئی میں جناح ہاؤس میں لگی ہوئی ہے اور کبھی کسی کو اعتراض نہیں ہوا۔ لیکن چونکہ اب عام انتخابات قریب آ رہے ہیں اس لئے جو مدے نہیں ہیں ان کو مدا بنا کر ملک کے ماحول میں فرقہ پرستی کا زہر گھولا جا رہا ہے‘‘۔

ادھر اے ایم یو میں تقریباً دو ہفتوں سے دھرنے پر بیٹھے طلباء کے مطالبات ابھی تک پورے نہیں ہوئے ہیں جس کے سبب طلباء نے ضلع و یونیورسٹی انتظامیہ پر مزید دباؤ بنانے کی غرض سے بھوک ہڑتال بھی کی ہے۔ ایک اور سابق طالب علم محمد فیصل کا کہنا تھا ’’انتہائی افسوس کا پہلو ہے کہ علم کی درسگاہ کو سیاست کا اڈہ بنایا جا رہا ہے۔ اس جگہ کو سیاست کا اڈہ بنایا جا رہا ہے جہاں سے کل کا ہندوستان تعمیر ہونا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ 2مئی کی دوپہر اس وقت اے ایم یو کیمپس میں ہنگامہ شروع ہو گیا تھا جب کچھ نام نہاد ہندو وادی تنظیوں کے شر پسند عناصر نے کیمپس میں داخل ہوکر بد امنی پھیلانے کی ناکام کوشش کی تھی اور پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے پتلے کو نذر آتش کیا تھا۔ ہندووادی تنظیم کے شر پسند عناصر کے خلاف جب اے ایم یو طلباء نے ایف آئی آر درج کرانے کے لئے تھانہ سول لائنس کا رخ کیا تو پولس نے ان کے سروں پر لاٹھیاں برسانی شروع کر دی تھیں۔ اس کے بعد سے طلباء لاٹھی چارج میں شامل پولس اہلکاروں اور ہندووادی شر پسند عناصر کے خلاف رپورٹ درج کرانے کو لے کر دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اے ایم یو طلباء کے مطالبات کے مدنظر اے آئی سی سی کے قومی سکریٹری و شہر صدر سابق ممبر اسمبلی وویک بنسل اور سابق ممبر پارلیمنٹ و کانگریس کے ضلع صدر چودھری وجیندر سنگھ نے ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کی اور طلباء کو انصاف دلائے جانے کے تعلق سے ایک میمورنڈم بھی انتطامیہ کو دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 14 May 2018, 9:43 AM