آئی ٹی کے بعد اب اے آئی کے باعث بینکنگ سیکٹر میں بھی 2 لاکھ لوگوں کی جا سکتی ہیں نوکریاں، تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف
سوئٹزرلینڈ کے ’یو بی ایس‘ جیسے بینک اے آئی کو گیم چینجر کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اس کا استعمال تجزیہ کار اوتار جیسے نئے طریقوں میں کر رہے ہیں۔

ٹیک انڈسٹری کے بعد اب بینکنگ سیکٹر میں بھی اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کی ملازمت جانے کا خطرہ گہرا ہونے لگا ہے۔ ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئندہ 5 سال میں یورپ کے بینکوں میں 2 لاکھ سے زائد نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں۔ آرٹیفیشیل انٹیلی جنس، ڈیجیٹلائزیشن اور برانچ کلوزر اس کی بڑی وجوہات بتائی گئی ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ اثر بیک-آفس، رِسک مینجمنٹ اور کمپلائنس سے منسلک ملازمین پر پڑ سکتا ہے۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں آیا ہے جب سرمایہ کار بینکوں پر لاگت کم کرنے کا دباؤ بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل اے آئی کی وجہ سے ٹیک سیکٹر میں بھی لاکھوں نوکریاں ختم ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال ٹیک انڈسٹری میں اے آئی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ملازموں کو نکال دیا گیا تھا۔ کووڈ وبا کے بعد سب سے زیادہ اثر ٹیک سیکٹر پر پڑا تھا۔ اب مورگن اسٹانلے کا کہنا ہے کہ بینکنگ سیکٹر اگلا بڑا شکار بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں 35 یورپی بینکوں کا تجزیہ کیا گیا ہے، جن میں تقریباً 21.2 لاکھ ملازمین کام کرتے ہیں۔ اے آئی اور ڈیجیٹل سروس کے بڑھتے استعمال سے روایتی بینکنگ ماڈل تیزی سے بدل رہا ہے۔
مورگن اسٹانلے کے مطابق بینکنگ کے بہت سے کام تکرار پر مبنی اور ڈیٹا پر منحصر ہوتے ہیں، جنہیں اے آئی آسانی سے سنبھال سکتا ہے۔ ٹرانجیکشن مانیٹرنگ، رپورٹ بنانا اور بڑے ڈیٹا کو پروسیس کرنا جیسا کام اب مشین لرننگ سے تیز اور سستے ہو رہے ہیں۔ اسی وجہ سے بیک-آفس، رِسک مینجمنٹ اور کمپلائنس کی نوکریاں سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ بینکوں کا دعویٰ ہے کہ اے آئی سے 30 فیصد تک کارکردگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کئی یورپی بینک پہلے ہی اے آئی کو ری-اسٹرکچرنگ کا ذریعہ بنا چکے ہیں۔ ڈَچ بینک ’اے بی این آمرو‘ نے 2028 تک اپنے فُل-ٹائم اسٹاف میں تقریباً 20 فیصد کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔ فرانس کے ’سوسیٹی جنرل‘ بینک کے سی ای او نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ لاگت کم کرنے کے لیے کوئی بھی شعبہ محفوظ نہیں ہے۔ سرمایہ کاروں کا دباؤ ہے کہ یورپی بینک امریکی بینکوں کے مقابلے میں اپنے کمزور منافع کو بہتر کریں۔
سوئٹزرلینڈ کے ’یو بی ایس‘ جیسے بینک اے آئی کو گیم چینجر کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اس کا استعمال تجزیہ کار اوتار جیسے نئے طریقوں میں کر رہے ہیں۔ ’یو بی ایس‘ نے اپنے سینئر لیڈرس کو اے آئی ٹریننگ کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی بھی بھیجا ہے۔ حالانکہ ’جے پی مورگن چیس‘ جیسے بینک احتیاط کا مشورہ دے رہے ہیں۔ بینک کا کہنا ہے کے اے آئی کی وجہ سے جونیئر ملازمین کی ضروری صلاحیتیں ضائع نہیں ہونی چاہئیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اے آئی بینکنگ کو بدلے گا، لیکن توازن نہ رہا تو مستقبل میں بڑے مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔