اب مودی سے پاسوان کے بعد اٹھاولے ناراض

مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے خلاف فیصلہ دینے والے آدرش کمار گوئل کو این جی ٹی چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کی مانگ کی ہے آدرش کمار کی تقرری سے دلت سماج میں ناراضگی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ملک میں دلتوں، پسماندگان اور آدیواسیوں کے ساتھ ہو رہی ناانصافیوں کے معاملہ میں اب مودی کے وزراء نے بھی انہیں گھیرنا شروع کر دیا ہے۔ مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کے بعد اب مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے مودی حکومت کی جانب سے لئے گئے فیصلہ پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔

رام داس اٹھاولے نے ایس سی/ایس ٹی قانون کو کمزور کرنے والی بنچ کے رکن رہے جج آدرش کمار گوئل کو نیشنل گرین ٹریبیونل (این جی ٹی) کا چیئرمین بنائے جانے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے آدرش کمار گوئل کو فوری طور پر عہدے سے ہٹائے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے اس فیصلہ سے دلت سماج میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ایشو پر وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات بھی کریں گے۔

واضح رہے کہ رام داس اٹھاولے ریپبلکن پارٹی آف انڈیا کے صدر ہیں جو کہ این ڈی اے میں شامل ہیں۔

رام داس اٹھاولے سے قبل این ڈی اے میں شامل رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) بھی اس معاملہ میں اپنا احتجاج درج کرا چکی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایل جے پی رہنما چراغ پاسوان نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ مودی حکومت کی طرف سے دلتوں اور آدیواسیوں کے تعلق سے جس طرح فیصلے لئے جا رہے ہیں اس سے اب ایل جے پی صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا ہے۔

چراغ پاسوان نے کہا کہ ان کی پارٹی ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی بنیادی شقوں کو بحال کرنے کے لئے 4 مہینوں سے بل لانے کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن حکومت اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے۔ ایل جے پی نے این جی ٹی کے صدر عہدے سے آدرش کمار گوئل کو ہٹانے اور ایس سی ایس ٹی ایکٹ کی شقوں کو بحال کرنے کے لئے بل لانے کے لئے مودی حکومت کو 9 اگست تک کا وقت دیا ہے۔

next