آشوتوش کے بعد آشیش کھیتان کا بھی’عآپ‘کو خدا حافظ

عام آدمی پارٹی سے لوگوں کے چھوڑنے کا سلسلہ تھم نہیں رہا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ میں دو سینئر رہنماؤں نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی ہے جس نے پارٹی کے مستقبل پر ہی سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

عام آدمی پارٹی (عآپ) مستقل کسی نہ کسی وجہ سے خبروں میں رہتی ہے چاہے وہ اس کے ارکان پر کیس کا معاملہ ہو، یا مرکز اور لیفٹیننٹ گورنر سے اختلافات کا معاملہ ہو یا پھر اندرونی اختلافات کو لے کر بانی رہنماؤں کے پارٹی چھوڑنے کا معاملہ ہو۔ عآپ ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہے اور اس کی وجہ مرکز یا ایل جی نہیں بلکہ ان کے دو سینئر رہنماؤں نے پارٹی چھورنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پہلے یوم ا ٓزادی کے موقع پر پارٹی کے سینئر رہنما اور معروف صحافی آشوتوش نے ٹوئٹ کر کے عوام کو یہ خبر دی کہ اب ان کا پارٹی اور پارٹی کی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں اور اب پارٹی کے بانی ارکان میں سے ایک آشیش کھیتان نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ وہ سیا ست سے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔

ان دونوں کے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد حزب اختلاف کے رہنماؤں نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے ختم ہونے کا عمل شروع ہو گیا ہے ، دہلی بی جے پی کے صدر منوج تیواری نے کہا ہے کہ ’’اگلے اسمبلی انتخابات تک یہ پارٹی دہلی کی سیاست سے غائب ہو جائے گی‘‘۔ ادھر کانگریس نے بھی اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ’’پارٹی کے قائم ہونے کے کچھ سالوں کے اندر ہی کئی بانی ارکان نے پارٹی چھوڑ دی ہے ، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ یقینی طور پر پارٹی کے اندر کچھ تو غلط ہو رہا ہے‘‘۔

عام آدمی پارٹی کا قیام ایک تحریک کی وجہ سے عمل میں آیا تھا اس لئے بہت سے ایسے لوگ جن کو سیاست میں کم اور حقیقی بدلاؤ میں زیادہ دلچسپی تھی اس لئے وہ اس پارٹی میں جڑے تھے لیکن پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی اور یہ بھی ایک دوسری سیاسی پارٹی کی طرح ہی ہو گئی۔ ویسے تو یوگیندر یادواور پرشانت بھوشن کے پارٹی سے نکالے جانے کے بعد سے یہ اندازہ ہونے لگا تھا کہ پارٹی کس جانب گامزن ہے لیکن جب راجیہ سبھا کے لئے پارٹی نے باہر کے دو لوگوں کو اپنا امیدوار بنایا ، تو پارٹی کے اندر اختلافات شروع ہو گئے۔ اب بظاہر اس پارٹی میں بدلاؤ کے نام پر کوئی چیز نہیں رہ گئی ہے اب صرف وہ لوگ ہیں جن کے پارٹی سے جڑے رہنے میں کچھ مفادات ہیں ، چاہے ان کے لئے لوک سبھا کا ٹکٹ ہو، اسمبلی کا ٹکٹ ، کونسلر کا ٹکٹ یا پھر کسی بورڈ کا چئیرمین وغیرہ بننا ہو ، اگر ایسے لوگوں کے مفادات کسی دیگرپارٹی سے پورے ہوتے نظر آئے ، تو یہ لوگ پارٹی بدلنے میں لمحہ بھر بھی نہیں سوچیں گے۔