افغانستان: 43 مزدور اغوا، 20 سکیورٹی اہلکار ہلاک

جنوبی افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں نے ایک تعمیراتی کیمپ پر دھاوا بول کر کم از کم 43 مزدوروں کو اغوا کر لیا ہے اور کم از کم 20 افغان سیکورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

تصویر ڈی ڈبلیو ڈی
تصویر ڈی ڈبلیو ڈی
user

ڈی. ڈبلیو

جنوبی افغانستان میں مزدوروں کے کیمپ پر کیے جانے والے حملے میں چار پولس اہکار مارے گئے ہیں۔ یہ تعمیراتی کیمپ قندھار صوبے کے ضلع اسپن بولدک میں واقع ہے۔ صوبائی گورنر کے ترجمان نے طالبان کی جانب سے رات کے اندھیرے میں کیے جانے والے حملے کی تصدیق کر دی ہے۔ اغوا کیے گئے افراد میں ٹیکنیکل ورکرز، باورچی اور ڈرائیور شامل ہیں۔ جاری ہونے والے بیان کے مطابق ایک افغان سیکورٹی اہلکار بھی زخمی ہوا ہے۔

افغانستان میں سڑکیں تعمیر کرنے والی کمپنی کے ایک عہدیدار نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ طالبان کا اصل ہدف وہاں قائم پولس کی چوکی تھی۔ دریں اثناء طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

اس کمپنی کے کچھ دیگر اہلکاروں کا کہنا تھا کہ طالبان نے چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا لیکن سیکورٹی اہلکار بھاگ کر مزدوروں کے کیمپ میں آ گئے تھے۔ طالبان رات کے وقت مزدوروں اور سیکورٹی اہلکاروں کے مابین فرق نہیں کر سکتے تھے، لہذا انہوں نے سب کو اغوا کر لیا۔ عیدالفطر کی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد طالبان جنگجوؤں کی عسکری کارروائیوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

طالبان نے صوبہ بادغیس اور قندہار میں عسکری کارروائیاں کرتے ہوئے کم از کم 24 افغان اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ صوبائی کونسل کے رکن عزیز بیگ کے مطابق جمعے کے روز صوبہ بادغیس میں طالبان کی ایک کارروائی میں چودہ سیکورٹی اہلکار اور دو شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

طالبان کی عید کے بعد شروع کی جانے والی کارروائیوں میں اب تک نوے کے قریب افغان فوجی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ گزشتہ دو راتوں کے دوران ہونے والے طالبان کے حملوں میں شدت پیدا ہوئی ہے۔

دریں اثناء صوبہ فریاب میں تین سو سے چار سو حکومتی اہلکاروں نے مقامی چیک پوسٹوں پر اپنے فرائض سرانجام دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ صدر اشرف غنی کی طرف سے کی جانے والی یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان بنا ہے۔ ان اہلکاروں کے مطابق طالبان کے حملوں کی صورت میں وہ جواب دینے کے قابل بھی نہیں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔