مالیگاؤں دھماکہ: بھگواملزمین کے وکلا کو شدید ہزیمت کا سامنا

سرکاری وکیل اویناس رسال کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے گواہ نے بتایا کہ اسے بغرض علاج فاران اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں پولس نے اس کا بیان درج کیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

ممبئی: مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے میں آج بھگواء ملزمین کے وکلاء کو اس وقت شدید ہزیمت اٹھانی پڑی جب خصوصی عدالت نے سرکاری گواہ کو دوبارہ گواہی کے لیے طلب کرنے والی عرضداشت کو خارج کردیا ۔ آج ان دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کی گواہی شروع ہوئی جس کے دوران خصوصی این آئی اے عدالت میں ساجد احمد محمد مصطفی(33) نامی شخص کی گواہی عمل میں آئی۔ اس دوران اس نے خصوصی جج ونود پڈالکر کو بتایا کہ 29 ستمبر کی شب وہ اس کے دوست کے ہمراہ بھکو چوک چائے پینے کے لیے گیا تھا جب وہاں بم دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں اسے سینے اور پیر میں چوٹیں آئی تھیں۔

سرکاری وکیل اویناس رسال کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے گواہ نے بتایا کہ اسے بغرض علاج فاران اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں پولس نے اس کا بیان درج کیا تھا۔ سرکاری گواہ کے بیان کے اندراج کے بعد جب عدالت نے ملزمین کے وکلاء کو گواہ سے جرح کرنے کا حکم دیا تو عدالت میں موجود جونیئر وکلاء نے کہا کہ ابھی سینئر وکلاء جرح کرنے کے لیے موجود نہیں ہیں جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سرکاری گواہ کو ڈسچارج کردیا اوراسے عدالت سے چلے جانے کا حکم دیتے ہوئے اپنی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کردی۔ اسی درمیان سرکاری گواہ ، سرکاری وکیل اور متاثرین کے نمائندگی کرنے والے وکلاء کے عدالت سے چلے جانے کے بعد دفاعی وکلاء نے عدالت سے رجوع ہوکر سرکاری گواہ کو گواہی کے لیے دوبارہ طلب کیے جانے کی گزارش کی جسے خصوصی جج نے مستر دکردیااور انہیں حکم دیا کہ وہ کل عدالت میں وقت پر حاضر رہ کر دیگر زخمی سرکاری گواہوں سے جرح کریں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی دفاعی وکلاء پر عدالت نے وقت پر حاضر نہیں رہنے کی وجہ سے جرمانہ عائد کیا تھا۔ دفاعی وکلاء کے عدالت سے غیر حاضر رہنے یا دیر سے عدالت پہنچنے پر متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ بھگوا ملزمین کے وکلاء ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت عدالت کی کارروائی میں خلل پیدا کرنا چاہتے ہیں تا کہ معاملے کی سماعت رک جائے ۔

انہوں نے کہا کہ مقدمہ کی سماعت پر عدالت میں جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ شاہد ندیم اپنے رفقاء کے ساتھ موجود رہتے ہیں لیکن دفاعی وکلاء بیشتر مواقعوں پر حربہ استعمال کرتے ہوئے عدالت سے غیر حاضر رہتے ہیں تاکہ عدالت کی کارروائی چل نہ سکے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ خصوصی جج پڈالکر نے دفاعی وکلاء پر جو جرمانہ عائد کیا ہے وہ اس کا خیر مقدم کرتے ہیں نیز انہیں امید ہیکہ اگر عدالت کا رویہ ایسے ہی سخت رہا تو دفاعی وکلاء کو مزید ہزیمت اٹھانا پڑ سکتی ہے۔