چین میں کورونا وائرس، پاکستان کی معیشت کو درپیش خطرات

دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی طاقت چین کو کورونا وائرس نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، اس خطرناک جان لیوا وائرس سے صرف چین ہی متاثر نہیں ہوا، بلکہ پاکستان اور بھارت سمیت تقریبا پچیس ممالک اس سے متاثر ہوچکے ہیں۔

چین میں کورونا وائرس، پاکستان کی معیشت کو درپیش خطرات
چین میں کورونا وائرس، پاکستان کی معیشت کو درپیش خطرات
user

ڈی. ڈبلیو

متاثرہ ممالک اس وائرس سے بچنے کے لئے اقدامات بھی کر رہے ہیں، پاکستان کی معیشت جو پہلے ہی بحالی کی سمت میں گامزن ہے، خطرناک حد تک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ چین میں کورونا وائرس کی اطلاعات کے فورا بعد ہی جہاں بین الاقوامی اسٹاک مارکیٹس پر اس کے منفی اثرات دیکھے گئے، وہیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی محفوظ نہ رہ سکا، پیر کو اسٹاک مارکیٹ کا ہنڈریڈ انڈیکس تیرہ سو چوراسی پوائنٹس تک گرگیا، جہاں اس گراوٹ میں افراط زر کی بلند شرح کا بڑا عمل دخل رہا وہیں چینی معیشت اور اسٹاک میں بدترین مندی کو بھی اس کی ایک وجہ قرار دیا گیا۔

اقتصادی ماہر سمیع اللہ طارق نے ڈی دبلیو سے بات چیت میں کہا، ''بظاہر تو چین میں پائے جانے والے وائرس نے پاکستان کو اب تک متاثر نہیں کیا ہے، لیکن قلیل مدت میں اس کی سنگینی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین دونوں قریبی دوست اور تجارتی پارٹنر ہیں، دونوں کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 15 سے 16 ارب ڈالر کے آس پاس ہے، پاکستان بڑی تعداد میں چین سے اربوں ڈالر کی مشینری اور پرزہ جات درآمد کرتا ہے، جبکہ چین کے لیے پاکستان کی برآمدات کی مالیت بھی تقریبا 2 ارب ڈالر سالانہ ہے، ایسے میں اگر چین میں صورتحال مزید تشویش ناک ہوتی ہے تو ہماری درآمدات بھی اس سے متاثر ہوں گی، اس وقت بھی پاکستان میں چین سے آنے والے سامان کی سخت جانچ پڑتال کی جارہی ہے، ایسا بھی ممکن ہے کہ درآمد بالکل ہی روک دی جائے۔‘‘

وزارت بندرگاہ و سمندری امور کے مشیر محمود مولوی نے بھی کورونا وائرس سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا،'' بندرگاہوں پر الرٹ جاری کیا جا چکا ہے کہ کسی بھی جہاز کے عملہ کو بغیر ہیلتھ سرٹیفکیٹ بندرگاہ پر اترنے کی اجازت نہ دی جائے، اسی طرح کسٹم حکام نے بھی چین سے آنے والے سامان کی کلیئرنس روک دی تھی، اب خصوصی کلیئرنس کے بعد کلیئر کیا جارہا ہے، اس سلسلے میں پورٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے بھی الرٹ جاری کیا ہے کہ چین سے درآمد ہونے والے استعمال شدہ کپڑوں اور فٹ ویئرز کو بغیر فیومی گیشن کلیئر نہ کیا جائے۔‘‘

پاکستان میں غریب اور متوسط طبقہ سفید پوشی کا برہم رکھنے کے لئے لائٹ ہاؤس، مشرق سینٹر، صدر اور شہر کے دیگر علاقوں میں لگنے والے لنڈا بازاروں سے چین سے درآمد شدہ پرانے کپڑوں اور جوتوں کی خریداری کرتا ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق چین سے ماہانہ پرانے کپڑوں اور جوتوں کے دو سو سے تین سو کنٹینرز شیرشاہ مارکیٹ پہنچتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا آغاز رواں سال جنوری سے ہی ہوا ہے، جس کے پیش نظر امید کی جارہی ہے کہ باہمی تجارت کا حجم مزید بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا، تاہم اقتصادی امور کے ماہر اصغر علی پونا والا کہتے ہیں،"آزاد تجارتی معاہدے سے کافی امیدیں وابستہ ہیں، دونوں ممالک باہمی تجارت بڑھانے میں کافی سنجیدہ بھی ہیں، لیکن چین کی موجودہ صورتحال میں رعایتی ٹیرف میں اشیاء کی درآمد اور برآمد کچھ مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔‘‘