آسام میں 1930 سے مقیم عبدالمنان کا خاندان اب غیر ملکی!

پچاس سالہ عبدالمنان نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات چیت میں کہا، ’’ہم حقیقی ہندوستانی ہیں۔ ہمارا خاندان 1930 سے اس علاقے میں بسا ہوا ہے۔ مجھے معلوم نہیں غلطی کہاں ہو رہی رہی ہے۔‘‘

آسام میں چاول کاشت کرنے والے ایک کسان عبدالمنان کے پانچ میں سے ایک بچے کو ہندوستانی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا، جب کہ ان کی بیوی اور بہو تک کو ’غیرقانونی تارکین وطن‘ قرار دیا جانے لگا۔ عبدالمنان کا کہنا ہے کہ یقیناً حکام سے کوئی غلطی ہو رہی ہے، یہ الگ بات ہے کہ مقامی حکام بضد ہیں۔

50 سالہ عبدالمنان نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات چیت میں کہا ’’ہم حقیقی ہندوستانی ہیں۔ ہمارا خاندان 1930 سے اس علاقے میں بسا ہوا ہے۔ مجھے معلوم نہیں غلطی کہاں ہو رہی رہی ہے۔‘‘

شناخت کے حوالے سے آسام میں جاری سیاست کے اعتبار سے اب عبدالمنان کی طرح قریب 40 لاکھ افراد کو اپنی ’شہریت‘ ثابت کرنا ہے۔ آسام میں غیرقانونی تارکین وطن کی موجودگی اور اس انداز کے سوالات اور کشیدگی ماضی میں خون ریزی تک کا باعث بن چکے ہیں۔

آسام میں بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش سے بہت بڑی تعداد میں افراد غیرقانونی ترک وطن کر کے آسام میں رہائش پذیر ہیں اور اس ریاست میں ان کی تعداد مقامی افراد سے بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

آل آسام اسٹوڈنٹس یونین کے اعلیٰ عہدیدار سموجل بھٹاچاریہ کے مطابق ’’ہندوستان ہندوستانی شہریوں کے لیے ہے۔ آسام ہندوستانی شہریوں کے لیے ہے غیرقانونی بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے نہیں۔‘‘

آل آسام اسٹوڈنٹ یونین آسام میں غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف اور شہریت کے حوالے سے عوامی جائزے کے اعتبار سے نہایت سرگرم ہے۔ بھٹاچاریہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات چیت میں کہا ’’ہم اس مسئلے کا مستقل حل چاہتے ہیں۔‘‘

جمعے کے روز قریب 39 لاکھ افراد کو ریاست کی جانب سے شہریت ثابت نہ کر پانے کے بعد اپیل کے فارم دیے گئے ہیں۔ بہت سے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ عمل بہت سے افراد کو گرفتاری، ملک بدری یا طویل المدتی غیریقینی صورت حال کا باعث بنا سکتا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول