فرانس داخل ہونے کی کوشش، ٹرک میں چھپے 30 پاکستانی پکڑے گئے

فرانسیسی دفتر استغاثہ کے مطابق اٹلی سے جنوبی فرانس میں داخل ہونے والے ایک ٹرک کی تلاشی لی گئی تو اس ٹرک کے پچھلے حصے میں چھپے ہوئے تیس پاکستانی پناہ گزین ملے۔ ٹرک ڈرائیور بھی پاکستانی تھا۔

فرانس داخل ہونے کی کوشش، ٹرک میں چھپے 30 پاکستانی پکڑے گئے
فرانس داخل ہونے کی کوشش، ٹرک میں چھپے 30 پاکستانی پکڑے گئے

ڈی. ڈبلیو

فرنچ شہر نیس کے وکیل استغاثہ نے بروز ہفتہ بتایا کہ یہ واقعہ فرانسیسی قصبے لا ٹوربی کے قریب پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ لاٹوربی کے قریب ایک ٹول پلازا پر معمول کی چیکنگ کی جا رہی تھی۔ اس دوران اٹلی سے فرانس داخل ہونے والے ایک ٹرک کو بھی روکا گیا۔

اس ٹرک کے پچھلے حصے میں تیس پاکستانی پناہ گزین چھپے ہوئے تھے جن میں تین کی عمریں اٹھارہ برس سے بھی کم تھیں۔ ٹرک کا ڈرائیور بھی پاکستانی شہری تھا۔

دفتر استغاثہ کے مطابق سیاسی پناہ سے متعلق یورپی قوانین کے تحت تمام پاکستانی پناہ گزینوں کو حراست میں لے کر انہیں اطالوی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ٹرک کے پاکستانی ڈرائیور کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اسے فرانس ہی میں زیر حراست رکھ کر انسانوں کو اسمگلنگ کے حوالے سے تفتیش کی جائے گی۔ وکیل استغاثہ کا کہنا تھا کہ پہلے یہ تفتیش کی جائے گی کہ آیا وہ انسانوں کی اسمگلنگ کے کسی منظم گروہ کا حصہ تو نہیں۔

تاہم اگر اس نے انفرادی حیثیت میں پاکستانی پناہ گزینوں کو غیر قانونی طور پر اٹلی سے فرانس منتقل کرنے کی کوشش کی تھی تو ایسی صورت میں اس کے خلاف انسانوں کی اسمگلنگ کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ عام طور پر پناہ کے متلاشی افراد کو فرانس سے چینل ٹنل کے ذریعے غیر قانونی طور پر برطانیہ منتقل کر دیا جاتا ہے۔

گزشتہ ماہ برطانیہ میں ایسے ہی ایک واقعے میں ایک ٹرک سے انتالیس پناہ گزینوں کی لاشیں ملی تھیں۔ ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے ان افراد کو بھی ایک مال بردار ٹرک میں چھپا کر فرانس سے برطانیہ پہنچایا گیا تھا۔