نہیں اٹھے تو سب ختم ہو جائے گا، 15سالہ بچی کا درد

پندرہ سالہ پاکھی جین نے صاف کہا کہ اگر آپ کے مذہب کے مطابق لوگوں کو قتل کرنا حب الوطنی ہے یا دیش بھکتی ہے تو مجھے افسوس ہے کہ آپ انسانیت کے لئے زہر ہیں۔

By قومی آوازبیورو

اگر حکمرانوں کو پاکھی جین کی ’چیخ‘ نہیں سنائی دے رہی تو ایسے حکمرانوں کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ دہلی کی پارلیمنٹ اسٹریٹ پر کٹھوعہ اور اناؤ کے معاملوں کے خلاف بڑی تعداد میں ’ناٹ ان مائی نیم‘ کے نام سے ہوئے احتجاجی مظاہرے میں لوگوں نے الگ الگ انداز میں اپنے غصہ کا اظہار کیا لیکن جس انداز میں ماٹرڈے اسکول کی دسویں جماعت کے امتحان دینے والی پندرہ سالہ پاکھی جین نے اپنے غصہ اور غم کا اظہار کیا اس نے وہاں موجود تمام لوگوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔

پاکھی جین نے کہا ’’شرم آتی ہے ان لوگوں پر جو عصمت دری کرنے والے کو اس لئے بچا رہے ہیں کہ اس کا تعلق کس مذہب سے ہے اور کس سیاسی پارٹی سے ہے۔ آپ لوگوں کو اب بھی ایک لڑکی نظر نہیں آتی اس کا مذہب نظر آتا ہے۔ شرم ہے آپ سب پر‘‘۔ ٹیلی گراف اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے پاکھی جین نے کہا ’’جب سے گوری لنکیش کا قتل ہوا ہے تب سے میں پریشان ہوں۔ ہم فیس بک پر بھی بی جے پی کے خلاف لکھتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ نہیں تھا کہ ہمارے دوستوں کے کیا نام ہیں۔ اب لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ ہندو ہیں یا مسلمان‘‘۔

پاکھی جین کے خیالات جو اس نے تحریر کئے تھے 
پاکھی جین کے خیالات جو اس نے تحریر کئے تھے 
ٹیلی گراف

پاکھی جین نے کہا ’’مجھے نہیں معلوم کیا لکھوں اور اپنے اندر جس چیخ کو میں محسوس کر رہی ہوں اس کا کیسے اظہار کروں لیکن پھر بھی میں اپنی ہر ممکن کوشش کروں گی کہ میرے دماغ کے اندر جو بھی چیخ اٹھ رہی ہے اس کو اپنی دل کی روشنائی سے ان مسلے ہوے صفحات پر پینٹ کروں‘‘۔

پاکھی جین نے کہا ’’مجھے وہ رات یاد ہے جب مجھے گوری لنکیش کے قتل کے بارے میں پتہ لگا تھا اور اس کے ایک دن بعد میرا امتحان تھا اور ہاں میں جمہوریت کے بارے میں لکھ رہی تھی لیکن بد قسمتی سے مجھے اس جمہوریت کا احساس اپنے ملک میں نہیں ہو پا رہا تھا۔ میں مانتی ہوں کہ اگر آج میں کچھ کہہ پا رہی ہوں تو وہ اپنے آئین کی وجہ سے کہہ پا رہی ہوں۔ کاش میں اپنے امتحان میں جو میری کتاب میں لکھا ہے اس کی جگہ یہ لکھ پاتی کہ کیسے ہندوستان بدل رہا ہے، کیسے لوگ جمہوری ملک میں خود کو غیر محفوط سمجھ رہے ہیں‘‘۔

پاکھی جین نے اپنی تقریر میں کئی چبھتے ہوئے سوال کئے ’’پہلی بار ایسا ہو رہا جب جس لڑکی کے ساتھ عصمت دری ہوئی ہے اس کی اور جس نے یہ ظلم کیا ہے اس کی مذہبی شناخت پوچھی جا رہی ہے۔ کیا ہو گیا ہے ہم کو؟ کیا ہم اب بھی انسان باقی ہیں؟ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد تم اس کا دھرم پوچھ رہے ہو؟ کیا مذہبی شناخت اور سیاسی پارٹی ہی سب کچھ ہے تمہارے لئے؟‘‘۔

اس نے کہا کہ ’’مہربانی کرکے اس کو ہلکے میں مت لیجئے اگر آپ خوشی خوشی گھر میں بیٹھے ہیں اور احتجاج کو نطر انداز کر رہے ہیں اور اگر یہ محسوس کر رہے ہیں ک آپ محفوظ ہیں تو یہ مت بھولئے کہ یہ حفاظت اور خوشی ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں رہے گی۔ اگر آپ ایسا کر رہے ہیں تو یہ بہت شرم کی بات ہے۔ اس پر فخر کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ انسانیت کو مار رہے ہیں‘‘۔

پاکھی جین ان لوگوں پر جم کر برسیں جو مظاہرہ کا مذاق اڑا رہے تھے ’’میں خبریں دیکھ رہی تھی اور کچھ لوگ اس مظاہرہ کو فیشن واک کا نام دے رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ لوگ سیلفی لے رہے ہیں مظاہر ہ کے دوران۔ میرا یقین کیجئے میں حقیقت میں خوش ہوں کہ لوگ مظاہرہ میں سیلفی لے رہے ہیں اور ویڈیو بنا رہے ہیں اور وہ بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمہ کو نفرت کے بھگوا رنگ سے رنگنے کی سیلفی نہیں لے رہے‘‘۔

پاکھی جین نے صاف الفاظ میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’اگر آپ کے مذہب کے مطابق لوگوں کو قتل کرنا حب الوطنی ہے یا دیش بھکتی ہے تو مجھے افسوس ہے کہ آپ انسانیت کے لئے زہر ہیں‘‘۔

والدین سے گزارش کرتے ہوئے پاکھی جین نے کہا ’’مجھے معلوم ہے کہ آپ خوف زدہ ہیں اور حقیقت میں سب خوفزدہ ہیں لیکن آپ اپنے بچوں کو مت روکئے۔ ہم سب ایک ساتھ ہیں اور اگر ہم ابھی ان سب چیزوں کو نہیں روکیں گے تو شائد جمہوریت، آ زادی، پیار، دوستی اور برابری جیسے الفاظ صرف کاپی کتابوں میں ہی پڑھنے کے لئے رہ جائیں گے‘‘۔